LIVE
Loading Breaking News...

آزاد کشمیر اسمبلی: 7 مخصوص نشستوں کے لیے پولنگ کا انعقاد

News Image
آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں آج سات مخصوص نشستوں کے لیے پولنگ کا عمل صبح دس بجے سے سہ پہر ایک بجے تک جاری رہا۔ ان نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے والے امیدواروں سے آج ہی نو منتخب ارکان حلف اٹھائیں گے۔
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی سات مخصوص نشستوں پر انتخابات کا عمل آج مقررہ وقت کے مطابق صبح دس بجے شروع ہوا جو کہ سہ پہر ایک بجے تک بلا تعطل جاری رہا۔ آزاد کشمیر کے آئین کے آرٹیکل 22 (1) کے تحت قانون ساز اسمبلی کل 53 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں سے 45 ارکان کا انتخاب براہ راست بالغ رائے دہی کے ذریعے کیا جاتا ہے جبکہ باقی آٹھ نشستیں مخصوص ہوتی ہیں۔ ان مخصوص نشستوں میں خواتین کے لیے پانچ، علماء و مشائخ کے لیے ایک، بیرون ملک مقیم جموں و کشمیر کے ریاستی باشندوں کے لیے ایک، اور ٹیکنوکریٹس و دیگر ماہرین کے لیے ایک نشست مختص ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، بیرون ملک مقیم ریاستی باشندوں کے لیے مخصوص نشست پر پی ایم ایل این کے چوہدری عبدالرحمن آرائیں واحد امیدوار تھے، جس کے باعث انہیں بلامقابلہ منتخب قرار دیا گیا ہے۔ براہ راست منتخب ہونے والی 45 میں سے سات نشستوں پر امن و امان کی صورتحال کے باعث انتخابات نہ ہو سکے، جس کے نتیجے میں اب تک منتخب ہونے والے 38 ارکان ہی ان مخصوص نشستوں کے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ خواتین کے لیے مخصوص پانچ نشستوں کے لیے چھ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے، جن میں پی ایم ایل این اور پی پی پی کی نمایاں خواتین سیاست دان شامل ہیں۔ اسی طرح، علماء و مشائخ اور ٹیکنوکریٹس کی نشستوں پر بھی سخت مقابلے کی توقع ہے۔ انتخابی عمل کے فوری بعد، آج ہی دوپہر دو بجے نو منتخب قانون ساز اسمبلی کا افتتاحی اجلاس بلایا گیا ہے جس میں تمام نئے ارکان اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ حلف برداری کی تقریب سبکدوش ہونے والے اسپیکر چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت منعقد کی جائے گی۔ واضح رہے کہ حالیہ انتخابات کا عمل سیکورٹی خدشات اور خطے میں جاری کشیدگی کے پیش نظر مختلف مراحل میں مکمل کیا گیا ہے۔ دریں اثنا، سیاسی محاذ پر پی پی پی اور پی ایم ایل این کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں اور حکومت پر کڑی تنقید کی ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل میں حکومتی مداخلت کے الزامات پر تسلی بخش جواب ملنے تک پی ایم ایل این کے ساتھ حقیقی اتحاد ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو اہم قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی مشاورت کی ضرورت ہے اور وہ طاقت کے زور پر قانون سازی نہیں کر سکتی۔