LIVE
Loading Breaking News...

امریکی ڈالر کی گرتی قدر اور عالمی معاشی صورتحال

News Image
عالمی مارکیٹ میں امریکی ڈالر اپنی کئی ماہ کی کم ترین سطح کے قریب تجارت کر رہا ہے جس کی بنیادی وجہ امریکی قرضوں سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات ہیں۔ سرمایہ کار امریکی معیشت کے مستقبل اور حکومتی قرضوں کی حد کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں امریکی ڈالر کی قدر میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے اور یہ گزشتہ کئی ماہ کی اپنی نچلی ترین سطح کے قریب تجارت کر رہا ہے۔ کرنسی ماہرین کے مطابق ڈالر کی اس کمزوری کے پیچھے سب سے بڑی وجہ امریکی حکومت کے قرضوں کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات ہیں۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ قرض کی حد اور حکومتی اخراجات کے حوالے سے واشنگٹن میں جاری سیاسی کشمکش معیشت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے جس کے باعث ڈالر کی مانگ میں کمی واقع ہوئی ہے۔ بینکنگ اور انویسٹمنٹ سیکٹر کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب بھی امریکی معیشت کے استحکام پر سوال اٹھتے ہیں تو ڈالر کی قدر پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں سرمایہ کار محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں ہیں، جس کے نتیجے میں دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر گر رہی ہے۔ اگرچہ فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے، تاہم قرضوں کے مسائل سے جڑی غیر یقینی صورتحال نے مارکیٹ کے مزاج کو تبدیل کر دیا ہے اور سرمایہ کار احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔ مزید برآں، عالمی سطح پر تجارت کرنے والے تاجروں اور اداروں کی جانب سے بھی ڈالر پر انحصار کم کرنے کی کوششیں دیکھی جا رہی ہیں، جو کہ ڈالر کی گرتی ہوئی قدر کا ایک اور بڑا محرک ثابت ہو رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعدادوشمار یہ طے کریں گے کہ آیا ڈالر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر پائے گا یا اسے مزید تنزلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک قرضوں کے بحران پر کوئی ٹھوس سیاسی معاہدہ نہیں ہو جاتا، تب تک کرنسی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہنے کا قوی امکان ہے۔