LIVE
Loading Breaking News...

چینی کار ساز کمپنیاں ہائبرڈ گاڑیوں کے عالمی مارکیٹ میں داخل

News Image
چینی کار ساز ادارے اب مکمل ہائبرڈ گاڑیوں کی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت عالمی آٹوموبائل انڈسٹری میں روایتی بڑی کمپنیوں کے غلبے کو بڑا چیلنج ثابت ہوگی۔
الیکٹرک گاڑیوں (EV) کی ٹیکنالوجی اور پیداوار میں عالمی سطح پر اپنی برتری ثابت کرنے کے بعد، چینی کار ساز کمپنیاں اب اپنی توجہ مکمل ہائبرڈ (Full-Hybrid) گاڑیوں کے شعبے کی طرف مبذول کر رہی ہیں۔ طویل عرصے سے جاپانی اور مغربی کمپنیوں کا اس مخصوص شعبے میں غلبہ رہا ہے، تاہم اب چین کی بڑی آٹوموبائل کمپنیاں اس میدان میں بھی اپنی جگہ بنانے کے لیے جارحانہ حکمت عملی اختیار کر رہی ہیں۔ یہ تبدیلی عالمی آٹوموبائل انڈسٹری کے روایتی ڈھانچے میں ایک بڑی ہلچل پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی مینوفیکچررز نے اپنی سپلائی چین اور بیٹری ٹیکنالوجی میں جو مہارت حاصل کی ہے، وہ اب ہائبرڈ گاڑیوں کی تیاری میں بھی بروئے کار لائی جا رہی ہے۔ چین اب صرف سستی الیکٹرک کاروں تک محدود نہیں رہا بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہائبرڈ ماڈلز کے ساتھ بین الاقوامی مارکیٹوں میں اپنی ساکھ مضبوط کر رہا ہے۔ ان کمپنیوں کا مقصد ایسی ہائبرڈ گاڑیاں متعارف کروانا ہے جو ایندھن کی بچت کے ساتھ ساتھ کارکردگی کے اعتبار سے بھی عالمی معیار کے مطابق ہوں، تاکہ وہ روایتی 'بیہمتھ' کمپنیوں کا مقابلہ کر سکیں۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں عالمی کار ساز کمپنیوں کے لیے مسابقت کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ چینی کار سازوں کی یہ پیش قدمی نہ صرف گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا باعث بنے گی بلکہ صارفین کو جدید ہائبرڈ ٹیکنالوجی تک بہتر رسائی بھی فراہم کرے گی۔ چین کے کار ساز ادارے اپنی تحقیق اور ترقی (R&D) کے بجٹ میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں تاکہ وہ ہائبرڈ سسٹم میں موجود پیچیدگیوں کو کم سے کم کر کے اسے عام صارف کے لیے قابلِ رسائی بنا سکیں۔ آخر میں، یہ کہنا بجا ہو گا کہ عالمی آٹوموبائل انڈسٹری ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں چینی برانڈز صرف ایک متبادل کے طور پر نہیں بلکہ مرکزی کھلاڑی کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ اگر چینی کمپنیاں اپنی ہائبرڈ ٹیکنالوجی میں اسی رفتار سے جدت لاتی رہیں تو آنے والے چند سالوں میں عالمی سڑکوں پر چینی ساختہ ہائبرڈ گاڑیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آئے گا، جو آٹو انڈسٹری کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔