Technology
مارک زکربرگ پر بچوں کی حفاظت کو نظر انداز کرنے کا سنگین الزام
میٹا کے سابق انجینئر آرٹورو بیجار نے عدالت میں بیان دیا ہے کہ کمپنی میں بچوں کی حفاظت کو ہمیشہ کاروباری ترقی کے مقابلے میں ثانوی حیثیت دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ مارک زکربرگ کی قیادت میں ایسا کلچر پروان چڑھا جہاں مصروفیت بڑھانے پر زیادہ توجہ مرکوز رکھی گئی۔
سوشل میڈیا دیو میٹا کے ایک سابق انجینئرنگ ڈائریکٹر نے حال ہی میں عدالت میں ایک انتہائی اہم اور تہلکہ خیز گواہی دی ہے جس نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ آرٹورو بیجار، جو میٹا میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز رہ چکے ہیں، نے بدھ کے روز عدالت کو بتایا کہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ نے ایک ایسا تنظیمی کلچر فروغ دیا جس میں بچوں کی آن لائن حفاظت کو ہمیشہ کمپنی کی ترقی اور صارفین کی مصروفیت (Engagement) کے مقابلے میں ثانوی حیثیت دی جاتی رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارم پر فیچرز ڈیزائن کرتے وقت حفاظتی پہلوؤں کو اکثر نظر انداز کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ فیس بک اور انسٹاگرام پر وقت گزاریں۔
عدالتی کارروائی کے دوران بیجار نے مزید کہا کہ کمپنی کے اندرونی طور پر ایسے اشارے موجود تھے کہ پلیٹ فارمز پر بچوں کو غیر محفوظ مواد اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، تاہم انتظامیہ کی جانب سے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے جو اقدامات کیے جانے چاہیے تھے، وہ ناکافی تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کمپنی کے فیصلوں میں مالی فائدہ اور ایپ کی مقبولیت کو انسانی تحفظ بالخصوص کم عمر صارفین کی ذہنی و جسمانی صحت پر فوقیت دی گئی۔ یہ گواہی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب میٹا کو عالمی سطح پر نوجوان صارفین کے لیے سوشل میڈیا کے مضر اثرات کے حوالے سے شدید قانونی دباؤ اور تنقید کا سامنا ہے۔
دوسری جانب، قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ آرٹورو بیجار کے اس بیان سے میٹا کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ میٹا ماضی میں بھی اپنی سیکیورٹی پالیسیوں کا دفاع کرتا رہا ہے، لیکن کمپنی کے ہی ایک سابق ذمہ دار عہدیدار کی طرف سے سامنے آنے والے یہ انکشافات کمپنی کے اس دعوے کو کمزور کرتے ہیں کہ وہ نوجوانوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ اس مقدمے کے نتیجے میں اب توقع کی جا رہی ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے ضابطہ اخلاق اور بچوں کی حفاظت کے حوالے سے سخت قوانین پر دوبارہ نظر ثانی کی جائے گی۔ فی الحال میٹا کی جانب سے اس گواہی پر باضابطہ ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے، تاہم یہ معاملہ اب دنیا بھر میں ایک بڑی بحث کا موضوع بن چکا ہے۔