Technology
سلیکون بیٹری ٹیکنالوجی میں بڑی کامیابی، نئی لیتھیئم کاربونیٹ تکنیک متعارف
جاپانی کمپنی آسہی کاسی نے ایک نیا طریقہ کار دریافت کیا ہے جو سلیکون پر مبنی بیٹریوں کی توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔ یہ پیشرفت مستقبل میں الیکٹرک گاڑیوں اور دیگر برقی آلات کی کارکردگی میں نمایاں بہتری کا باعث بنے گی۔
جاپان کی معروف کیمیکل کمپنی 'آسہی کاسی' (Asahi Kasei) نے بیٹری ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک اہم کامیابی حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، انہوں نے لیتھیئم کاربونیٹ کا ایک ایسا جدید طریقہ کار وضع کیا ہے جس کے استعمال سے سلیکون پر مبنی بیٹری سیلز کی توانائی کی کثافت (energy density) میں تقریباً 10 فیصد تک اضافہ ممکن ہو گیا ہے۔ یہ پیشرفت بیٹریوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی جانب ایک بڑا قدم تصور کی جا رہی ہے، خاص طور پر ان شعبوں میں جہاں بیٹری کی زیادہ دیرپا کارکردگی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
سلیکون پر مبنی بیٹریاں روایتی گریفائٹ بیٹریوں کے مقابلے میں زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم ان کے ساتھ کچھ تکنیکی چیلنجز بھی جڑے ہوتے ہیں جن میں بیٹری کا پھول جانا اور چارجنگ کے دوران استحکام کے مسائل شامل ہیں۔ آسہی کاسی کے محققین کا کہنا ہے کہ لیتھیئم کاربونیٹ کا نیا طریقہ کار ان مسائل کو کم کرنے اور سیل کی مجموعی کارکردگی کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس نئی تحقیق سے بیٹریوں کی لائف سائیکل میں بھی بہتری متوقع ہے، جو کہ الیکٹرک گاڑیوں اور پورٹیبل الیکٹرانک ڈیوائسز کے لیے انتہائی خوش آئند ہے۔
ماہرین کے مطابق، توانائی کی کثافت میں 10 فیصد کا اضافہ معمولی نہیں ہے کیونکہ یہ بیٹری کے وزن اور سائز کو متاثر کیے بغیر اسے زیادہ طاقتور بناتا ہے۔ یہ ایجاد خاص طور پر اس وقت سامنے آئی ہے جب پوری دنیا الیکٹرک گاڑیوں کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہی ہے اور بیٹریوں کی زیادہ گنجائش حاصل کرنے کے لیے مختلف ٹیکنالوجیز پر کام جاری ہے۔ آسہی کاسی کا یہ طریقہ کار نہ صرف پیداواری لاگت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے بلکہ یہ اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس اور دیگر جدید برقی آلات کے لیے بھی ایک نئی راہ ہموار کرے گا۔
آسہی کاسی اس ٹیکنالوجی کو کمرشل پیمانے پر لانے کے لیے مزید تجربات کر رہی ہے، جس کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ یہ انڈسٹری کے معیارات میں تبدیلی لائے گی۔ کمپنی کا یہ دعویٰ بیٹری مینوفیکچرنگ کی دنیا میں ایک بڑی ہلچل کا باعث بنا ہے، کیونکہ سلیکون اینوڈ ٹیکنالوجی کو طویل عرصے سے گریفائٹ کا بہترین متبادل سمجھا جاتا رہا ہے۔ اگر یہ نیا طریقہ کار بڑے پیمانے پر کامیاب رہتا ہے، تو مستقبل قریب میں ہم زیادہ طاقتور اور دیرپا چلنے والی بیٹریوں کا مشاہدہ کر سکیں گے جو عالمی توانائی کے بحران اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو آسان بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔