LIVE
Loading Breaking News...

امیزون زوکس روبوٹ ٹیکسی امریکی وفاقی منظوری لاس ویگاس

News Image
امیزون کی ملکیت والی خود مختار گاڑیوں کی کمپنی زوکس نے لاس ویگاس میں کمرشل روبوٹ ٹیکسی سروس شروع کرنے کے لیے امریکی وفاقی منظوری حاصل کر لی ہے۔ یہ گاڑی بغیر روایتی اسٹیئرنگ وہیل اور پیڈلز کے مکمل طور پر خودکار طریقے سے چلائی جائے گی۔
امیزون کی خود مختار گاڑیوں کی ذیلی کمپنی زوکس نے ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کرتے ہوئے بغیر اسٹیئرنگ وہیل اور پیڈلز کے اپنی روبوٹ ٹیکسی کے لیے امریکی وفاقی منظوری حاصل کر لی ہے۔ اس باضابطہ منظوری کے بعد زوکس اب اپنے کمرشل روبوٹ ٹیکسی سروس کا باضابطہ آغاز لاس ویگاس کے مصروف ترین علاقوں میں کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ یہ پیش رفت خودکار ڈرائیونگ کی صنعت میں ایک بڑا قدم مانی جا رہی ہے کیونکہ اس سے قبل روایتی کنٹرولز کے بغیر گاڑیوں کو سڑکوں پر لانا انتہائی مشکل اور پیچیدہ عمل سمجھا جاتا تھا۔ زوکس کی جانب سے تیار کردہ یہ منفرد روبوٹ ٹیکسی روایتی کاروں سے بالکل مختلف ہے کیونکہ اس میں ڈرائیور کی نشست، اسٹیئرنگ وہیل، بریک یا ایکسلریٹر پیڈلز کا کوئی وجود نہیں ہے۔ اس گاڑی کے اندر مسافر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھ سکتے ہیں جس سے سفر کا تجربہ انتہائی آرام دہ اور جدید ہو جاتا ہے۔ گاڑی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اس میں متعدد جدید ترین سینسرز، کیمرے اور لیڈار سسٹمز نصب کیے گئے ہیں جو قریبی ماحول کا 360 درجے کا نظارہ فراہم کرتے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں خود بخود فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امیزون کی اس ذیلی کمپنی نے لاس ویگاس میں اس سروس کو شروع کرنے سے قبل کئی سالوں تک مختلف ٹیسٹ ڈرائیوز اور حفاظتی جانچ پڑتال کا عمل مکمل کیا۔ وفاقی اداروں کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد اب کمپنی کو امید ہے کہ وہ عام عوام کے لیے اس انقلابی سفری سروس کو جلد از جلد تجارتی بنیادوں پر پیش کر دے گی۔ اس اقدام سے نہ صرف شہری نقل و حرکت کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں آئیں گی بلکہ مستقبل کے ٹرانسپورٹیشن ماڈلز کے لیے بھی نئے راستے کھلیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زوکس کی یہ کامیابی دنیا بھر میں خودکار گاڑیوں کی صنعت کے لیے ایک نئی مثال قائم کرے گی۔ اگر لاس ویگاس میں یہ پراجیکٹ کامیاب رہتا ہے تو آنے والے وقتوں میں اسے امریکہ کے دیگر بڑے شہروں تک بھی پھیلایا جائے گا۔ ٹیک انڈسٹری اور امیزون کے سرمایہ کاروں کی طرف سے اس خبر کا زبردست خیرمقدم کیا گیا ہے اور اسے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔