LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز اور بجلی کی کھپت کا بحران

News Image
مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کے لیے بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ عالمی توانائی کے شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ 2030 تک صرف امریکی بجلی کا 12 فیصد حصہ ان مراکز کی نذر ہو جائے گا۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت کا شعبہ جس تیزی سے ترقی کر رہا ہے، اسی رفتار سے دنیا بھر میں توانائی کی کھپت کے حوالے سے تشویش میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار اور تجزیوں سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ اے آئی ماڈلز کو چلانے والے بڑے ڈیٹا سینٹرز آنے والے چند سالوں میں بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا تخمینہ ہے کہ 2030 تک صرف امریکہ میں کل بجلی کی کھپت کا تقریباً 12 فیصد حصہ ان مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی نذر ہو جائے گا، جو ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ یہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے جب ہم اس بات کا موازنہ صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال اور ماحولیاتی اثرات سے کرتے ہیں۔ اے آئی ماڈلز، خاص طور پر لارج لینگویج ماڈلز کو ٹریننگ دینے کے لیے درکار کمپیوٹنگ پاور کا مطلب ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں جی پی یو (GPU) یونٹس کو 24 گھنٹے فعال رہنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، ان ڈیٹا سینٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے درکار کولنگ سسٹم بھی بجلی کا بہت بڑا حصہ استعمال کرتے ہیں۔ اس اضافے نے توانائی کے وسائل اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس پر اب پالیسی ساز بھی غور کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، ٹیکنالوجی کمپنیاں اب متبادل توانائی کے ذرائع اور زیادہ توانائی کی بچت کرنے والے ہارڈویئر کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ بہت سی بڑی کمپنیاں اب اپنے ڈیٹا سینٹرز کو قابل تجدید توانائی (Renewable Energy) جیسے کہ سولر اور ونڈ پاور پر منتقل کرنے کے لیے سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف قابل تجدید توانائی اس بڑھتے ہوئے دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگی جب تک کہ کمپیوٹنگ کے طریقوں کو مزید موثر نہیں بنایا جاتا۔ نتیجتاً، یہ ٹیکنالوجی صرف ایک سہولت نہیں بلکہ عالمی توانائی کے انفراسٹرکچر کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکی ہے۔ اگر اے آئی کی ترقی اور توانائی کی پائیداری کے درمیان توازن قائم نہ کیا گیا تو یہ عالمی سطح پر کاربن فوٹ پرنٹ میں اضافے کا باعث بنے گی۔ آنے والے سالوں میں ٹیکنالوجی کے شعبے کو مصنوعی ذہانت کی کامیابی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ زمین کے ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے بھی مشکل فیصلے کرنے ہوں گے، کیونکہ توانائی کی قلت کا براہ راست اثر عام صارف پر بھی پڑے گا۔