LIVE
Loading Breaking News...

نواز شریف کا بیان: ملک مزید بحران برداشت نہیں کر سکتا

News Image
مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ موجودہ ملکی حالات مزید کسی بھی نئے بحران کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے لندن میں نواز شریف سے ملاقات کے دوران ملکی سیاسی صورتحال اور آزاد کشمیر کے امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔
مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اس وقت جس نازک اقتصادی اور سیاسی دور سے گزر رہا ہے، اس میں ملک مزید کسی بھی بحران کا بوجھ اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے یہ بات وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ہونے والی ایک اہم ملاقات کے دوران کہی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، معاشی چیلنجز اور آزاد جموں و کشمیر کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پارٹی قائد کو ملکی معاملات سے آگاہ کیا۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے قائد مسلم لیگ ن کو اندرون ملک سیاسی پیش رفت، حکومت کی معاشی پالیسیوں اور عوامی فلاحی اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ حکومت ملکی معیشت کو استحکام دینے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے تاکہ عام آدمی کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سیاسی استحکام کے بغیر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ناممکن ہے، اس لیے تمام تر توانائیاں ملکی معیشت کی بہتری پر مرکوز رکھی جانی چاہئیں۔ اس موقع پر آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم کے امور پر بھی گفتگو کی گئی اور خطے میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ میاں نواز شریف نے زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کو ذاتی یا گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد کو مقدم رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر اداروں اور جمہوریت کے استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی، کیونکہ قوم اب مزید کسی محاذ آرائی یا سیاسی عدم استحکام کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ملاقات کا مقصد ملکی مسائل کے حل کے لیے مشاورت کو تیز کرنا اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی طے کرنا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان کو درپیش تمام اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نکالنے کے لیے اتحادی حکومت سنجیدہ اور مربوط اقدامات جاری رکھے گی۔ سیاسی تجزیہ کاروں نے اس ملاقات کو ملکی سیاست میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے کیونکہ اس سے حکومت کو آئندہ کے لائحہ عمل کے تعین میں مدد ملے گی۔