LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں بین الاقوامی طلباء کے لیے نئی امیگریشن پالیسی اور ہدایات

News Image
امریکہ کی کئی معروف یونیورسٹیوں نے بین الاقوامی طلباء کو 15 ستمبر سے نافذ العمل ہونے والی نئی امیگریشن پالیسی سے پہلے امریکہ واپس پہنچنے کی تاکید کی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت ایف اور جے کیٹیگری کے ویزا ہولڈرز کے لیے قیام کی مدت کو محدود کیا جا رہا ہے۔
امریکہ کی کئی اہم اور معروف یونیورسٹیوں نے اپنے بین الاقوامی طلباء کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ 15 ستمبر سے نافذ العمل ہونے والی نئی وفاقی امیگریشن پالیسی کے نفاذ سے پہلے لازمی طور پر امریکہ واپس پہنچ جائیں۔ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے متعارف کروائے جانے والے ان نئے قوانین کے تحت، ایف ون (تعلیمی طلباء)، جے ون (ایکسچینج وزیٹرز) اور آئی (غیر ملکی میڈیا اور صحافی) کیٹیگری کے ویزا ہولڈرز کے لیے قیام کی مدت کے حوالے سے اہم تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، جو ان طلباء کے تعلیمی کیریئر اور ملک میں قیام پر براہ راست اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ ہارورڈ، کولمبیا، اوہائیو اسٹیٹ، جارج ٹاؤن، جارج واشنگٹن اور یونیورسٹی آف شکاگو سمیت متعدد اداروں نے اپنے طلباء کو خبردار کیا ہے کہ اس ڈیڈ لائن کے آس پاس بین الاقوامی سفر کرنے سے گریز کیا جائے تاکہ وہ غیر یقینی صورتحال سے بچ سکیں۔ نئے قوانین کے تحت روایتی 'دورانیہ کی حیثیت' یعنی ڈی ایس سسٹم کو ختم کر کے بہت سے بین الاقوامی طلباء کے لیے داخلے کی ایک مقررہ مدت کا نظام نافذ کیا جا رہا ہے۔ موجودہ نظام کے تحت اہل طلباء کو اپنے تعلیمی پروگرام کے دوران امریکہ میں رہنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن نئی پالیسی کے مطابق اب طلباء کو فارم آئی نائٹی فور پر داخلہ کی ایک مخصوص تاریخ دی جائے گی جو عام طور پر چار سال کی زیادہ سے زیادہ ابتدائی مدت تک محدود ہوگی۔ ایسے طلباء جو طویل المدتی ڈاکٹریٹ، میڈیکل یا دیگر پیشہ ورانہ کورسز میں داخل ہیں اور جن کی تعلیم چار سال سے زیادہ پر محیط ہے، ان کے لیے یہ تبدیلیاں خاصی پریشانی کا باعث بن سکتی ہیں۔ ان طلباء کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے یو ایس سی آئی ایس کے ذریعے قیام میں توسیع کی درخواست دینی پڑے گی، جس سے تعلیمی اور انتظامی مراحل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ امریکہ میں پہلے سے موجود اور 15 ستمبر کو قانونی حیثیت برقرار رکھنے والے طلباء کے لیے عبوری قوانین نسبتاً نرم ہیں، تاہم جو طلباء اس تاریخ کے بعد ملک سے باہر جا کر واپس آئیں گے وہ لازمی طور پر نئے مقررہ مدت کے نظام کے تحت آئیں گے۔ اس کے علاوہ، تعلیمی پروگرام کی تکمیل کے بعد ملنے والا گریس پیریڈ بھی ساٹھ دن سے کم کر کے تیس دن کر دیا گیا ہے، جو فارغ التحصیل ہونے والے نوجوانوں کے لیے نوکری یا عملی تربیت کے مواقع تلاش کرنے کا وقت محدود کر دے گا۔ ہائر ایجوکیشن کی تنظیموں نے ان قوانین کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے تاکہ اس کے نفاذ کو روکا جا سکے، لیکن جب تک عدالت کوئی حکم امتناعی جاری نہیں کرتی، یونیورسٹیاں طلباء کو یہی مشورہ دے رہی ہیں کہ وہ احتیاطی تدابیر کے طور پر 15 ستمبر سے پہلے اپنے تمام سفر مکمل کر لیں۔