World
جاویر میلی کا غیر ملکیوں کی ملک بدری کا فیصلہ اور قانونی مباحث
ارجنٹائن کے صدر جاویر میلی نے ملک میں مبینہ طور پر نفرت اور دشمنی پھیلانے والے غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کے لیے ہنگامی فرمان پر غور شروع کر دیا ہے۔ ماہرین قانون نے اس ہنگامی حکم نامے کی قانونی حیثیت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ارجنٹائن کے صدر جاویر میلی نے ایک نئے اور سخت گیر اقدام کے تحت ان تمام غیر ملکی شہریوں کو ملک بدر کرنے کا عندیہ دیا ہے جو ارجنٹائن کے خلاف مبینہ طور پر نفرت یا دشمنی کی مہم میں ملوث ہیں۔ صدر میلی کی جانب سے یہ قدم فٹ بال ورلڈ کپ کے بعد سامنے آنے والی صورتحال کے تناظر میں اٹھایا جا رہا ہے، جہاں ملک کے خلاف مبینہ طور پر منفی پروپیگنڈا کیا گیا۔ صدر کا مؤقف ہے کہ ملکی وقار کو مجروح کرنے والے عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی ناگزیر ہے۔ اس حوالے سے ایک ہنگامی فرمان لائے جانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ ایسے غیر ملکیوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ تاہم، اس مجوزہ اقدام پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر قانونی ماہرین کی طرف سے شدید شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کا ہنگامی فرمان ملک کے آئینی اور بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہو سکتا ہے، جو آزادی اظہارِ رائے اور بنیادی انسانی حقوق کے دائرے میں آتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے جمہوری اقدار کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور غیر ملکی باشندوں کے بنیادی حقوق سلب ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب حکومتی عہدیداروں کا اصرار ہے کہ ملکی سلامتی اور وقار کے تحفظ کے لیے ایسے سخت فیصلے کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر پارلیمنٹ اور عدالتوں میں شدید قانونی کشمکش دیکھنے کو مل سکتی ہے، کیونکہ حزب اختلاف کی جماعتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس فرمان کے خلاف بھرپور آواز اٹھانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ ارجنٹائن کی سیاست میں یہ تنازع اس وقت مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور اس کے ملک پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔