LIVE
Loading Breaking News...

بھارت کا خلائی اسٹیشن 2035 تک قائم کرنے کا منصوبہ

News Image
بھارت نے سال 2035 تک اپنا خود مختار خلائی اسٹیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے پہلے ماڈیول کی منظوری پہلے ہی دی جا چکی ہے۔ اسرو کے چیئرمین ڈاکٹر وی نارائن نے اتوار کو اس عزم کا اعادہ کیا کہ خلائی تحقیقات کے شعبے میں ملک تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
بھارت نے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک اور بڑا سنگ میل عبور کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے اور ملک سال 2035 تک اپنا ذاتی اور خود مختار خلائی اسٹیشن قائم کرنے کے ہدف پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے چیئرمین ڈاکٹر وی نارائن نے اتوار کے روز ایک اہم بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت خلائی ریسرچ کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔ اس طویل المدتی منصوبے کے تحت مجوزہ 'بھارتیہ انترکش اسٹیشن' کے پہلے ماڈیول کی منظوری پہلے ہی دی جا چکی ہے جو اس بڑے پروجیکٹ کی جانب پہلا عملی قدم ہے۔ اسرو کے چیئرمین کے مطابق، اس خلائی اسٹیشن کا مقصد مدار میں طویل المدتی انسانی موجودگی کو یقینی بنانا اور سائنسی تجربات کے لیے ایک منفرد پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔ چندریان مشنز کی شاندار کامیابی کے بعد اب بھارت کی توجہ انسان بردار خلائی مشن گگن یان اور اس کے بعد اس مستقل خلائی اسٹیشن کے قیام پر مرکوز ہے۔ اس منصوبے کے لیے ملک کے اندر ہی جدید ترین ٹیکنالوجی اور ساز و سامان تیار کیا جا رہا ہے تاکہ بیرونی انحصار کو کم سے کم کیا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت کا یہ اقدام اسے دنیا کے ان چند चुनिंदा ممالک کی صف میں لا کھڑا کرے گا جو اپنے خلائی اسٹیشن کے مالک ہیں۔ اس سے نہ صرف ملکی خلائی صنعت کو فروغ ملے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سائنسی تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے۔ اسرو کے سائنسدان اور انجینئرز اس وقت اس پیچیدہ پراجیکٹ کے ڈیزائن، حفاظتی اقدامات اور لاجسٹکس پر دن رات کام کر رہے ہیں تاکہ مقررہ وقت یعنی 2035 تک اس خواب کو حقیقت میں بدلا جا سکے۔