LIVE
Loading Breaking News...

جان فیٹرمین کی اے آئی پالیسی پر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت

News Image
امریکی سینیٹر جان فیٹرمین نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کے معاملے پر نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ امریکی حکومت کے ضرورت سے زیادہ ردعمل سے چین کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
امریکی سینیٹ کی سیاست میں اس وقت ایک اہم اور غیر متوقع موڑ اس وقت دیکھنے میں آیا جب ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جان فیٹرمین نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی ترقی کے معاملے پر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کی کھل کر تائید کر دی۔ سینیٹر فیٹرمین کے اس مؤقف سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی سیاسی حلقوں میں ٹیکنالوجی بالخصوص مصنوعی ذہانت کے حوالے سے حکمت عملی پر اب روایتی جماعتوں کی لکیریں دھندلا رہی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قدم دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان اس اہم تکنیکی موضوع پر بڑھتے ہوئے فاصلوں کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ اپنے ایک حالیہ بیان میں سینیٹر جان فیٹرمین نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی پالیسیوں پر ضرورت سے زیادہ ردعمل یا غیر ضروری قدغنیں لگانے کا اصل فائدہ چین کو پہنچ رہا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ نے اس شعبے میں رفتار برقرار نہ رکھی اور بلاوجہ کی رکاوٹیں کھڑی کیں تو عالمی سطح پر تکنیکی برتری چین کے ہاتھ چلی جائے گی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن میں قومی سلامتی اور تکنیکی مسابقت کے تناظر میں اے آئی کی ترقی پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس قسم کے بیانات سے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بھی اے آئی پالیسی کے مستقبل کو لے کر بحث چھڑ گئی ہے۔ ایک طرف جہاں کچھ رہنما سخت ضابطہ اخلاق اور سکیورٹی پروٹوکول پر زور دے رہے ہیں، وہیں فی جیسے رہنما معاشی اور تکنیکی مسابقت کو برقرار رکھنے کے لیے تیز رفتار ترقی کے حق میں ہیں۔ یہ اندرونی خلیج آنے والے دنوں میں امریکی کانگریس میں قانون سازی کے عمل کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ قومی سلامتی اور عالمی تکنیکی مارکیٹ میں برتری حاصل کرنے کی دوڑ میں امریکہ کو اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ سینیٹر جان فیٹرمین کا یہ مؤقف نہ صرف واشنگٹن کی روایتی سیاسی صف بندیوں کو چیلنج کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ چین کے ساتھ جاری ٹیکنالوجی کی سرد جنگ میں امریکی رہنماؤں کی ترجیحات میں تبدیلی آ رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی اعلیٰ قیادت اس بدلتے ہوئے منظر نامے پر کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔