Technology
گوگل فائبر انٹرنیٹ سے صحت اور سافٹ ویئر کے شعبوں میں انقلاب
امریکی شہروں کیریبورو اور چیپل ہل میں تیز ترین انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے گوگل فائبر کے منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی آمد سے علاقے میں صحت کی سہولیات اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے شعبوں پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
امریکہ کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ کی رفتار کو مزید تیز بنانے کے لیے نئے منصوبے زیر غور ہیں، جن میں کیریبورو اور چیپل ہل کے شہر بھی شامل ہیں۔ یہ علاقے ملک کے ان چند خوش نصیب حصوں میں شمار ہو سکتے ہیں جہاں انتہائی تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہوگی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کی آمد سے نہ صرف عام شہریوں کی روزمرہ زندگی میں بہتری آئے گی بلکہ یہ مقامی سطح پر معیشت اور ٹیکنالوجی کے بڑے شعبوں کا نقشہ بھی بدل کر رکھ دے گی۔ اس تیز رفتار انٹرنیٹ کے سب سے زیادہ مثبت اثرات صحت کی دیکھ بھال یعنی ہیلتھ کیئر اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے شعبوں پر پڑنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
صحت کے شعبے میں تیز رفتار اور مستحکم انٹرنیٹ کی دستیابی سے دور دراز کے مریضوں کا علاج معالجہ، آن لائن مشاورت اور طبی ڈیٹا کی منتقلی انتہائی محفوظ اور تیز رفتار ہو جائے گی۔ ڈاکٹرز اور طبی ماہرین جدید ترین آلات کے ذریعے بغیر کسی تعطل کے معلومات کا تبادلہ کر سکیں گے، جس سے ہنگامی حالات میں بروقت فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ، طبی تحقیق کے لیے درکار لاکھوں ڈیجیٹل ریکارڈز کو اب منٹوں میں اپ لوڈ اور ڈاؤن لوڈ کیا جا سکے گا، جو کہ صحت کی خدمات کو بہتر بنانے کی سمت ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
دوسری جانب، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ اداروں اور فری لانسرز کے لیے بھی یہ کسی نعمت سے کم نہیں ہوگا۔ تیز رفتار اور پائیدار انٹرنیٹ کی بدولت سافٹ ویئر کی تیاری، بڑی ڈیٹا بیسز کی مینجمنٹ، اور کلاउड کمپیوٹنگ کے عمل میں بے پناہ تیزی آئے گی۔ مقامی کمپنیاں بین الاقوامی منڈیوں میں مزید بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں گی کیونکہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے بڑی فائلیں منتقل کرنے اور دنیا بھر کے کلائنٹس کے ساتھ لائیو میٹنگز کرنے کے قابل ہو جائیں گی۔
اس منصوبے کے حامیوں کا خیال ہے کہ کیریبورو اور چیپل ہل میں گوگل فائبر کی آمد اس خطے کو ٹیکنالوجی کا ایک نیا مرکز بنا دے گی۔ اس سے نہ صرف نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ تعلیم، تحقیق اور کاروبار کے شعبے بھی ترقی کی نئی منزلیں طے کریں گے۔ مقامی انتظامیہ اور کاروباری حلقے اس ٹیکنالوجی کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں اور اس کے نفاذ سے خطے میں ایک نئے دور کا آغاز ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔