LIVE
Loading Breaking News...

سابق آرمی چیف براتئی کا نائجیرین شہریوں کے نام اہم پیغام

News Image
سابق نائجیرین آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل توکر یوسف براتئی نے شہریوں سے ملک کی خودمختاری کے دفاع کی اپیل کی ہے۔ یہ اپیل امریکہ میں صدر ٹিনوযু کی دستاویزات سے متعلق جاری قانونی کارروائی کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔
نائیجیریا کے سابق چیف آف آرمی سٹاف، لیفٹیننٹ جنرل (ر) توکر یوسف براتئی نے تمام نائجیرین شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ حساس حالات میں متحد ہو جائیں اور ملک کی خودمختاری اور قومی وقار کا دفاع کریں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی ایک عدالت میں نائجیریا کے صدر بولا ٹینوযু کی ماضی کی دستاویزات کی ممکنہ ریلیز یا جانچ پڑتال کے حوالے سے قانونی کارروائی جاری ہے۔ اس قانونی تنازع نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی ہے، جس پر سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث جاری ہے۔ جنرل براتئی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ نائجیریا کے شہریوں کو بیرونی یا اندرونی دباؤ کے باوجود ملکی اداروں کا احترام کرنا چاہیے اور قومی سلامتی کو مقدم رکھنا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے عدالتی معاملات اور دستاویزات کے تنازعات ملک کے تشخص کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ عوام افواہوں پر دھیان دینے کے بجائے قومی اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نائجیریا کا وقار ہر چیز سے بالا تر ہے اور تمام شہریوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ ملک کے اتحاد کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ امریکہ میں ہونے والی ان قانونی کارروائیوں نے نائجیریا کی سیاست میں ایک نئی بحث چھوٹی ہے جہاں اپوزیشن اور حکومتی جماعتیں اس معاملے پر اپنے اپنے مؤقف پیش کر رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، سابق آرمی چیف کی جانب سے یہ بیان ملکی سیاست میں استحکام لانے اور عوام کو پرسکون رکھنے کی ایک کوشش ہے تاکہ کسی بھی قسم کے انتشار سے بچا جا سکے۔ حکومتی ترجمانوں نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک کے اندرونی معاملات کو قانون کے مطابق حل کیا جائے گا اور کسی کو بھی قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔