LIVE
Loading Breaking News...

یو پی آئی کا شاندار سفر اور ہندوستان کی ڈیجیٹل معیشت پر اثرات

News Image
ہندوستان کے یونیفائیڈ پیمینٹس انٹرفیس یعنی یو پی آئی نے اپنی شروعات سے لے کر اب تک ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبے میں ناقابل یقین ترقی کی ہے۔ یہ نظام ملک کی معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور 2047 کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
آج سے ایک دہائی قبل جب ایک نیا پیمینٹس پروٹوکول صرف اکیس بینکوں کے ساتھ خاموشی سے لانچ کیا گیا تھا، تو پہلے مہینے میں اس کے ذریعے محض 373 ٹرانزیکشنز ہوئیں۔ اس وقت شاید ہی کسی نے یہ اندازہ لگایا ہوگا کہ یہ نظام آگے چل کر پورے ملک کی معاشی اور مالیاتی تصویر کو یکسر بدل کر رکھ دے گا۔ آج وہی نظام، جسے یونیفائیڈ پیمینٹس انٹرفیس یا یو پی آئی کے نام سے جانا جاتا ہے، ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی ایک شاندار مثال بن چکا ہے۔ اس نے عام آدمی کی روزمرہ زندگی کو اس قدر آسان بنا دیا ہے کہ اب نقد رقم کے بغیر جیب میں سمارٹ فون کے ذریعے چھوٹے سے لے کر بڑے تمام مالی لین دین چند سیکنڈز میں مکمل ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ دس برسوں کے دوران یو پی آئی نے جس رفتار سے ترقی کی ہے، اس کی مثال جدید مالیاتی تاریخ میں شاذ و نادر ہی ملتی ہے۔ چند سو ٹرانزیکشنز سے شروع ہونے والا یہ سفر اب اربوں اور کھربوں روپئے کے ماہانہ لین دین تک پہنچ چکا ہے۔ دیہی علاقوں سے لے کر بڑے میٹرو پولیٹن شہروں تک، سبزی فروشوں سے لے کر بڑے شاپنگ مالز تک، ہر جگہ یو پی آئی کیو آر کوڈز اور آن لائن ٹرانسفرز نے روایتی نقد نظام کا متبادل فراہم کیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی کامیابی کا سب سے بڑا راز اس کی سادگی، رفتار اور سکیورٹی ہے، جس پر عام صارفین نے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اس ڈیجیٹل انقلاب نے نہ صرف صارفین کی زندگی آسان کی ہے بلکہ مالیاتی شمولیت کو بھی نئی بلندیوں پر پہنچایا ہے۔ ایسے افراد جو پہلے کبھی بینکنگ نظام کا حصہ نہیں تھے، وہ اب سمارٹ فونز اور موبائل ایپس کے ذریعے باضابطہ مالیاتی دائرے میں آ چکے ہیں۔ اس سے ملک میں ٹیکس کے دائرے کو بڑھانے، کاروبار میں شفافیت لانے اور بدعنوانی پر قابو پانے میں بھی بڑی مدد ملی ہے۔ حکومتی سطح پر بھی اس نظام کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے کے لیے متعدد ممالک کے ساتھ معاہدے کیے جا رہے ہیں تاکہ سرحد پار ادائیگیاں بھی اتنی ہی آسان ہو سکیں۔ اب جب کہ ہندوستان آنے والے برسوں کے لیے بڑے معاشی اہداف طے کر رہا ہے، ماہرین کا ماننا ہے کہ 2047 تک ترقی یافتہ قوم بننے کا یہ سفر بڑی حد تک اسی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سے ہو کر گزرتا ہے۔ یو پی آئی جیسی ٹیکنالوجیز ملک کو ڈیجیٹل طور پر خودمختار بنانے کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط، شفاف اور تیز رفتار معیشت کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ آنے والے وقت میں مصنوعی ذہانت اور بلاک چین جیسی جدید ٹیکنالوجیز کے انضمام سے اس نظام کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوگا، جس سے نہ صرف معیشت کو استحکام ملے گا بلکہ عالمی مالیاتی منڈی میں ملک کا مقام مزید مستحکم ہوگا۔