Pakistan
آزاد کشمیر اسمبلی نے وفاقی وزراء کے بیانات کے خلاف اور ٹروتھ کمیشن کے حق میں قرارداد منظور کر لی
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے حالیہ کشیدگی اور راولاکوٹ کے واقعات کے حوالے سے دو اہم قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لی ہیں۔ اسمبلی اجلاس میں وفاقی وزراء کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی سخت مذمت کرتے ہوئے ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن کے قیام کی حمایت کی گئی ہے۔
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں راولاکوٹ اور خطے کے دیگر حصوں میں ہونے والی حالیہ بدامنی کے تناظر میں دو اہم قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئی ہیں۔ اسمبلی کا یہ اجلاس پینل ممبر نبیلہ ایوب کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے ارکان نے شرکت کی۔ منظور کی گئی پہلی قرارداد میں وفاقی وزراء بالخصوص وزیر دفاع خواجہ آصف کے راولاکوٹ کے عوام کے حوالے سے دیے گئے مبینہ بیانات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ ایسے بیانات نے کشمیری عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تحریک پاکستان اور خطے کے لیے پونچھ کے عوام کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور وفاقی وزراء کو اس قسم کے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو کہ جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں۔ اجلاس کے دوران اس بات کی بھی توثیق کی گئی کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی تجویز کردہ ٹروتھ اینڈ ریکنسلیشن کمیشن (سچائی اور مصالحتی کمیشن) کا قیام موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد اور بہترین راستہ ہے۔ اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ اس کمیشن کے فعال ہونے تک راولاکوٹ میں مزید کوئی کارروائی نہ کی جائے اور الیکشن کمیشن میرپور ڈویژن میں حالیہ انتخابات کے دوران سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں کا فوری نوٹس لے۔ اسمبلی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام سیاسی و انتظامی مسائل کے حل کے لیے بات چیت ہی واحد ذریعہ ہے جبکہ باہمی محاذ آرائی سے صرف خطے کے عوام کا نقصان ہوتا ہے اور اس سے دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ اسمبلی نے ایک دوسری تفصیلی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کی جس میں آئین کی بالادستی، جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا گیا۔ اس قرارداد میں فرض کی راہ میں جام شہادت نوش کرنے والے سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا گیا جبکہ حالیہ بدامنی کے دوران قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا۔ قرارداد میں واضح کیا گیا کہ پرامن احتجاج اور سیاسی مطالبات پیش کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے، لیکن کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے، تشدد پھیلانے اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ تمام زیر حراست افراد کے معاملات کو شفاف قانونی تقاضوں اور آئین کے دائرے میں رہ کر حل کیا جائے تاکہ خطے میں مستقل امن و امان کی بحالی ممکن ہو سکے۔