LIVE
Loading Breaking News...

میکڈونلڈز کا صارفین پر خفیہ سرویلنس اور ڈیٹا ڈوزیئرز کا انکشاف

News Image
میکڈونلڈز کی جانب سے صارفین کا وسیع ڈیٹا اکٹھا کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے جس میں سابقہ آرڈرز اور لائلٹی پوائنٹس شامل ہیں۔ اس عمل نے کارپوریٹ سرویلنس اور پرائیویسی کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
معروف عالمی فاسٹ فوڈ چین میکڈونلڈز کے بارے میں ایک چونکا دینے والا تحقیقاتی انکشاف سامنے آیا ہے کہ یہ ادارہ اپنے صارفین کا انتہائی وسیع اور تفصیلی ڈیٹا اکٹھا کرتا ہے، جو کسی ایف بی آئی کی خفیہ فائل کی طرح 515 صفحات پر مشتمل ڈوزیئرز کی شکل میں موجود ہوتا ہے۔ اس عمل میں صارفین کے ماضی کے تمام آرڈرز، لائلٹی پوائنٹس کا ریکارڈ اور ان کی ذاتی خریداری کی عادات کو بڑی باریک بینی کے ساتھ محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ کاروباری مقاصد کے لیے ان کا بھرپور استعمال کیا جا سکے۔ اس قسم کی کارروائیوں نے دنیا بھر میں کارپوریٹ سرویلنس کے بڑھتے ہوئے رجحان اور صارفین کی پرائیویسی کے تحفظ کے حوالے سے شدید خطرات کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کس طرح عام کمپنیاں اب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے صارفین کی روزمرہ زندگی کی نجی معلومات کو ریکارڈ کر رہی ہیں، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کیلیفورنیا جیسے چند مخصوص علاقوں میں صارفین کے لیے قانونی تحفظات موجود ہیں جو انہیں اس قسم کی ڈیٹا کلیکشن سے کچھ حد تک محفوظ رکھتے ہیں، تاہم ان ریاستوں یا علاقوں سے باہر جہاں سخت قوانین موجود نہیں ہیں، صارفین مکمل طور پر اس ڈیجیٹل نگرانی کی زد میں ہیں۔ اس صورتحال نے قانونی اور سماجی حلقوں میں یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا عام شہریوں کی ذاتی معلومات اس طرح تجارتی مقاصد کے لیے محفوظ کی جانی چاہئیں یا نہیں۔ پرائیویسی کے حقوق کے کارکنان کا مطالبہ ہے کہ حکومتوں کو کارپوریٹ اداروں کے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے طریقوں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے اور عالمی سطح پر سخت قوانین کا نفاذ کرنا چاہیے تاکہ عام صارفین کی پرائیویسی کو ہر صورت محفوظ بنایا جا سکے۔