World
ایران جنگ کے بعد دنیا بھر میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد سے دنیا کے کم از کم 145 ممالک میں پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی منڈی میں سپلائی کے خدشات اور کشیدگی کے باعث عام شہریوں کو مہنگائی کا سامنا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ حملوں کے آغاز کے بعد سے عالمی معیشت اور توانائی کے شعبے کو شدید دھچکا لگا ہے۔ بین الاقوامی اطلاعات کے مطابق دنیا کے کم از کم 145 ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے عام شہریوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی صورتحال نے دنیا بھر میں ایندھن کی سپلائی کے روایتی راستوں اور پیداواری مراکز کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کے داموں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جس کا براہ راست اثر مقامی منڈیوں پر پڑ رہا ہے۔ اکثر ممالک میں حکومتیں اس بحران سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی وضع کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن ایندھن مہنگا ہونے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خوردونوس اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں بھی اوپر چلی گئی ہیں۔ عام صارفین اور کاروباری طبقے کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں اس ناگہانی اضافے نے ان کے ماہانہ بجٹ کو درہم برہم کر دیا ہے۔ دوسری جانب اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی کا یہ سلسلہ طویل ہوتا ہے تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جو کہ عالمی سطح پر کساد بازاری کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور توانائی کی تنظیمیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ عالمی معیشت کو مزید بحران سے بچایا جا سکے۔