World
یورپی یونین اور روس کی سربیا میں جنگلات کی آگ کے خلاف امداد
شدید گرمی کی لہر کے باعث بلقان کے خطے میں بھڑکنے والی ہولناک جنگلات کی آگ پر قابو پانے کے لیے یورپی یونین اور روس نے سربیا کی مدد شروع کر دی ہے۔ بین الاقوامی امدادی ٹیمیں اور خصوصی طیارے مقامی عملے کے ساتھ مل کر آگ کے پھیلاؤ کو روکنے میں مصروف ہیں۔
بلقان کے خطے میں شدید گرمی کی لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے اب بین الاقوامی سطح پر امدادی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ یورپی یونین کا ریسکیو عملہ اور ایک خصوصی روسی طیارہ سربیا میں موجود مقامی فائر فائٹرز کی مدد کے لیے میدان میں اتر آئے ہیں۔ اس مشترکہ کوشش کا مقصد آگ کے پھیلاؤ کو روکنا اور رہائشی علاقوں کو محفوظ بنانا ہے۔ علاقے میں درجہ حرارت کی بلند ترین سطح اور تیز ہواؤں کے باعث آگ پر قابو پانے کے مشن کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ روسی طیارہ اوپر سے پانی اور فائر ریٹارڈنٹ کی بمباری کر رہا ہے جبکہ زمینی راستوں پر یورپی یونین اور مقامی ٹیمیں مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بلقان کے خطے میں اس سال شدید گرمی کی لہریں دیکھی جا رہی ہیں، جن کی وجہ سے جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سربیا کی حکومت نے بین الاقوامی برادری بالخصوص یورپی یونین اور روس کی اس بروقت مدد پر تشکر کا اظہار کیا ہے، کیونکہ مقامی وسائل اس وسیع پیمانے پر لگی آگ پر قابو پانے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک آگ کے تمام بڑے مرکزوں کو مکمل طور پر بجھا نہیں دیا جاتا اور متاثرہ علاقوں میں خطرہ ٹل نہیں جاتا۔