World
غزہ میں صحت کا بحران: علاج معالجہ اب ایک بڑا چیلنج
غزہ کا تباہ شدہ صحت کا نظام پناہ گزین کیمپوں میں مقیم انتہائی کمزور افراد تک پہنچنے سے قاصر ہے۔ طبی سہولیات کی عدم دستیابی اور ادویات کے بحران نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
غزہ کی پٹی میں جاری شدید بحران کے دوران انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ وہاں صحت کا بنیادی حق اب ایک عام انسان کی پہنچ سے باہر ہو کر محض ایک استثنا بن چکا ہے۔ علاقے کا مجموعی طبی اور صحت کا نظام اس حد تک تباہ ہو چکا ہے کہ وہ عوام کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے سے مکمل طور پر قاصر ہے۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ شکار وہ انتہائی کمزور افراد اور خاندان ہیں جو غزہ کے مختلف حصوں میں قائم عارضی پناہ گزین کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
طبی ذرائع کے مطابق، ادویات، طبی آلات اور ایندھن کی شدید قلت کی وجہ سے اسپتالوں اور بنیادی صحت کے مراکز کی اکثریت یا تو بند ہو چکی ہے یا پھر وہ انتہائی محدود پیمانے پر کام کر رہی ہے۔ پناہ گزین کیمپوں میں صفائی کے ناقص انتظامات، پینے کے صاف پانی کی کمی اور طبی امداد کی عدم دستیابی کے باعث مختلف وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ کیمپوں میں مقیم بچے، خواتین اور بزرگ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جنہیں بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے شدید خطرات لاحق ہیں۔
بین الاقوامی اداروں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ محاصرے اور مسلسل پابندیوں کی وجہ سے طبی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ اگر فوری طور پر طبی سامان، ادویات اور خوراک کی ترسیل کو یقینی نہ بنایا گیا تو غزہ کے کیمپوں میں اموات کی شرح میں مزید خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ مقامی اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کے کارکنان نے فوری جنگ بندی اور متاثرہ علاقوں میں بلا تعطل طبی امداد پہنچانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے تاکہ انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔