LIVE
Loading Breaking News...

فیڈرل ریزرو کے فیصلے اور سرمایہ کاروں کی حکمت عملی

News Image
وال اسٹریٹ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود کو مستحکم رکھنے کے باوجود افراط زر کے دباؤ کے پیش نظر مستقبل میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ اس صورتحال میں سرمایہ کاروں کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
وال اسٹریٹ کے مالیاتی حلقوں میں اس ہفتے فیڈرل ریزرو کے پالیسی فیصلے کے بعد ایک ہی واضح نکتہ ابھر کر سامنے آیا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانا اب بھی مرکزی بینک کی اولین ترجیح ہے اور آنے والے دنوں میں شرح سود میں مزید اضافے کا قوی امکان موجود ہے۔ فیڈرل ریزرو نے اگرچہ حالیہ میٹنگ میں شرح سود کو فی الحال برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم پالیسی سازوں کے درمیان آراء کی تقسیم نے اس بات کی عکاسی کی ہے کہ معیشت کی سمت کے بارے میں مرکزی بینک کے اندر بھی مباحث جاری ہیں۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق، جب مرکزی بینک کے اندر اس طرح کے اختلافات پائے جاتے ہیں تو یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ معاشی اشاریے ملے جلے رجحانات ظاہر کر رہے ہیں۔ ایک طرف جہاں روزگار کی شرح اور اقتصادی ترقی کے اعداد و شمار تسلی بخش ہیں، وہیں دوسری طرف افراط زر کی شرح ابھی تک اس ہدف تک نہیں پہنچی جو فیڈرل ریزرو کا بنیادی مقصد ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے لیے آنے والے مہینوں میں مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کا اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے اور وہ انتہائی احتیاط سے اپنے فیصلے کر رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں اور مالیاتی تجزیہ کاروں کے لیے یہ صورتحال ایک پیچیدہ چیلنج بن چکی ہے۔ اسٹاک مارکیٹ اور بانڈ مارکیٹ دونوں ہی اس تذبذب کا شکار ہیں کہ آیا مرکزی بینک آنے والے اجلاسوں میں سخت مانیٹری پالیسی کا راستہ اختیار کرے گا یا نہیں۔ ایسی فضا میں پورٹ فولیو کا تنوع اور محتاط سرمایہ کاری ہی وہ واحد طریقہ کار بچتا ہے جس کے ذریعے ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ سرمایہ کاروں کو قلیل مدت کے بجائے طویل المدتی معاشی بنیادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئیں۔ مستقیماً اگر دیکھا جائے تو فیڈرل ریزرو کے یہ فیصلے نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ڈالر کی قدر، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں اور بین الاقوامی تجارت تمام تر امور اس کڑی مانیٹری پالیسی سے جڑے ہوئے ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں جیسے ہی نئے معاشی اعداد و شمار سامنے آئेंगे، سرمایہ کاروں کی نظریں اس بات پر ہوں گی کہ مرکزی بینک کا اگلا قدم کیا ہوگا تاکہ وہ اپنی مالیاتی حکمت عملی کو اسی مناسبت سے ڈھال سکیں۔