World
یوکرین کے حلیف ممالک کی کیف میں بیٹھک، فضائی دفاعی نظام پر زور
یوکرین کے اتحادی رہنماؤں نے کیف کا دورہ کیا ہے جہاں ملک میں فضائی دفاعی نظام کی شدید کمی پر بات چیت کی جا رہی ہے۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اتحادیوں سے مزید دفاعی امداد کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
یوکرین کے دارالحکومت کیف میں حلیف ممالک کے رہنماؤں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں ملک کے لیے فضائی دفاعی نظام کو مزید مضبوط اور فعال بنانے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد یوکرین کو درپیش فضائی دفاعی سازوسامان کی قلت پر قابو پانا اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اجلاس کے دوران یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ موجودہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب یوکرین اور روس کے درمیان فضائی حملوں کا سلسلہ لگاتار جاری ہے اور دونوں فریقین کی جانب سے ڈرون حملوں میں شدت دیکھی جا رہی ہے۔ 'کولیشن آف دی ولنگ' کے نام سے جُڑے ان اتحادی رہنماؤں نے یوکرین کی زمینی صورتحال کا جائزہ لیا اور یقین دلایا کہ وہ مشکل وقت میں کیف کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یوکرین کو حالیہ ہفتوں میں اہم تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی وجہ سے دفاعی چیلنجز کا سامنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، روس کی جانب سے بڑھتے ہوئے فضائی حملوں کو روکنے کے لیے یوکرین کو جدید ترین ریڈار سسٹمز اور میزائل شکن بیٹریوں کی فوری ضرورت ہے۔ صدر زیلنسکی نے عالمی برادری اور مغربی اتحادیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امدادی کارروائیوں میں تاخیر نہ کریں تاکہ اہم شہری بنیادی ڈھانچے کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اس اجلاس کے بعد متوقع ہے کہ کئی مغربی ممالک یوکرین کے لیے نئی دفاعی امدادی پیکیجز کا اعلان کریں گے۔