Politics
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مخصوص نشستوں کے نتائج
مسلم لیگ ن نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے لیے ہونے والے انتخاب میں سات میں سے پانچ مخصوص نشستیں حاصل کر لیں۔ پیپلز پارٹی کے حصے میں دو نشستیں آئیں جبکہ انتخابات کے دوران قانون و امن کی صورتحال پر سیاسی کشیدگی بھی دیکھی گئی۔
مظفرآباد میں ہونے والے انتخابات کے دوران آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی سات مخصوص نشستوں کے نتائج سامنے آ گئے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن نے ان میں سے پانچ نشستیں اپنے نام کی ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے حصے میں دو نشستیں آئیں۔ آزاد جموں و کشمیر کے آئین کے آرٹیکل بائیس کے تحت قانون ساز اسمبلی کل ترپن ارکان پر مشتمل ہوتی ہے، جن میں براہ راست منتخب ہونے والے پینتالیس ارکان اور آٹھ مخصوص نشستوں کے ارکان شامل ہوتے ہیں۔ ان مخصوص نشستوں میں خواتین کے لیے پانچ، علماء و مشائخ، بیرون ملک مقیم ریاستی باشندوں، اور ٹیکنوکریٹس کے لیے ایک ایک نشست شامل ہے۔
انتخابی عمل کے دوران مسلم لیگ ن کے چوہدری عبدالرحمان آرین بیرون ملک مقیم ریاستی باشندوں کی نشست پر بلامقابلہ منتخب ہوئے کیونکہ وہ واحد امیدوار تھے۔ دیگر نشستوں کے لیے ہونے والی پولنگ میں مسلم لیگ ن کی سہرش قمر، مریم ادریس اور مریم زمان نے خواتین کی مخصوص نشستیں حاصل کیں۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے فرزانہ یعوب نے بھی خواتین کی نشست پر کامیابی حاصل کی جبکہ قرعہ اندازی کے ذریعے ایک اور نشست کا فیصلہ بھی ہوا۔ علماء و مشائخ اور ٹیکنوکریٹس کی نشستوں پر بھی مسلم لیگ ن کے امیدواروں نے واضح اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی اور اچھے خاصے ووٹ لے کر اپنے مد مقابل امیدواروں کو شکست دی۔
یاد رہے کہ اس انتخاب سے قبل خطے میں قانون و امن کی صورتحال اور سیکیورٹی خدشات کے باعث براہ راست نشستوں کے کچھ انتخابی حلقوں میں پولنگ نہیں ہو سکی تھی۔ اس کے باوجود اب تک منتخب ہونے والے ارکان نے مخصوص نشستوں کے اس انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لیا۔ دوسری جانب اس سیاسی عمل کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان کشیدگی کا عنصر بھی نمایاں رہا ہے، جس کی بازگشت وفاقی سطح پر بھی سنائی دے رہی ہے۔