Pakistan
کراچی کا رہائشی بحران: تاریخ، مسائل اور کچی آبادیوں کی حقیقت
کراچی میں رہائشی بحران کی جڑیں 1947 کی تقسیم ہند کے وقت لاکھوں مہاجرین کی آمد اور ناکافی شہری منصوبہ بندی میں پیوست ہیں۔ سات دہائیوں پر محیط حکومتی کوششیں اور ماسٹر پلانز ناکافی ثابت ہوئے، جس کے نتیجے میں آج شہر کی ساٹھ فیصد سے زائد آبادی کچی آبادیوں یا غیر رسمی بستیوں میں رہنے پر مجبور ہے۔
جب اگست 1947 میں پاکستان معرض وجود میں آیا تو کراچی کی آبادی تقریباً چار لاکھ پینتیس ہزار افراد پر مشتمل تھی۔ لیکن چند ہی مہینوں میں تقسیم ہند کے بعد ہندوستان سے لاکھوں مسلمان مہاجرین کی آمد نے اس ڈیموگرافی کو یکسر تبدیل کر دیا۔ نئے دارالحکومت میں اس تیزی سے اتنے بڑے پیمانے پر آنے والے لوگوں کو سنبھالنے کے لیے شہر کا بنیادی ڈھانچہ، رہائشی وسائل اور سرکاری خدمات ہرگز تیار نہیں تھیں۔ آج کراچی جس رہائشی بحران کا شکار ہے، اس کی جڑیں آزادی کے فوراً بعد کے انہی برسوں میں پیوست ہیں۔ نو تشکیل شدہ حکومت کو ایک ایسا ہنگامی چیلنج درپیش تھا جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی تھی۔ مہاجرین کو اسکولوں، فوجی بیرکوں، سرکاری عمارتوں اور عارضی کیمپوں میں پناہ دی گئی۔ بہت سے لوگوں نے ان ترک شدہ املاک پر قبضہ کر لیا جو ہندوستان ہجرت کرنے والے ہندو اور سکھ چھوڑ گئے تھے، جبکہ دیگر نے خالی زمینوں پر عارضی جھونپڑیاں تعمیر کر لیں۔ اگرچہ یہ انتظامات وقتی تھے مگر سستے گھروں کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث یہ مستقل شکل اختیار کرتے گئے۔ چند ہی برسوں میں کراچی کی آبادی دو گنا سے تجاوز کر گئی اور 1951 کی مردم شماری کے مطابق شہر کی آبادی دس لاکھ سے بڑھ گئی۔ روزگار کی تلاش میں ملک کے دیگر حصوں سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ مسلسل جاری رہا، لیکن شہر کی ہاؤسنگ پالیسی آبادی کی اس تیز رفتار نمو کے ساتھ قدم ملا کر چلنے میں ناکام رہی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج کراچی کی ساٹھ فیصد سے زائد آبادی سستی اور باقاعدہ منصوبہ بند رہائش کی عدم دستیابی کے باعث غیر رسمی محلوں اور کچی آبادیوں میں رہنے پر مجبور ہے۔ ہاؤسنگ کے اس دیرینہ بحران نے دہائیوں کے دوران ناکام آبادکاری اسکیموں اور بدلتی ہوئی پالیسیوں کا سامنا کیا ہے، جو یہ سکھاتی ہیں کہ رہائش کو روزگار، نقل و حمل اور بنیادی سہولیات سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ آزادی کے ابتدائی سالوں میں حکومت نے باقاعدہ رہائشی منصوبے بنانے کی کوشش کی، جن میں پاکستان کوارٹرز، مارٹن کوارٹرز، فیڈرل بی ایریا، پاپوش نگر اور دیگر رہائشی اسکیمیں شامل ہیں۔ ان منصوبوں سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ ریاست رہائشی قلت سے بخوبی آگاہ ہے، لیکن یہ کبھی بھی اکثریت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ڈیزائن نہیں کیے گئے تھے۔ زیادہ تر یونٹس عام لوگوں یا نئے آنے والے مہاجرین کے بجائے سرکاری ملازمین کے لیے بنائے گئے تھے۔ ان حالات میں شہر کے طویل مدتی حل کے لیے سویڈن کی فرم مرز رینڈل واٹن کی مدد سے 1951 میں پہلا جامع ماسٹر پلان 'گریٹر کراچی پلان' تیار کیا گیا۔ اس پلان میں سیٹلائٹ ٹاؤنز، صنعتی علاقوں اور بہتر ٹرانسپورٹ کے ذریعے شہر کی منظم توسیع کی تجویز دی گئی تھی۔ بدقسمتی سے، وسائل کی کمی اور انتظامی کمزوریوں کے باعث یہ شاندار تجاویز زیادہ تر کاغذ پر ہی محدود رہیں اور شہر غیر منظم طریقے سے پھیلتا چلا گیا۔ پلاننگ اور زمینی حقائق کے درمیان اس وسیع خلیج نے کراچی کی ترقی کی ایک اہم شناخت بنا دی۔ ضرورت مند خاندان برسوں طویل سروے، زمین کے حصول اور تعمیراتی کارروائیوں کا انتظار نہیں کر سکتے تھے، لہذا انہوں نے خود اپنے لیے حل تلاش کیے۔ پچاس کی دہائی کے دوران شہر بھر میں غیر رسمی بستیاں یعنی کچی آبادیاں ابھرنا شروع ہوئیں۔ کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے اصل انتخاب باقاعدہ اور غیر رسمی رہائش کا نہیں تھا، بلکہ غیر رسمی رہائش اور کھلے آسمان کے نیچے رہنے کا تھا۔ اگرچہ پالیسی سازوں نے ان بستیوں کو تجاوزات یا منصوبہ بندی کی ناکامی قرار دیا، لیکن حقیقت میں ان بستیوں نے غریب طبقے کو روزگار کےمواقع، اسکولوں، ٹرانسپورٹ اور سماجی رابطوں کے قریب رکھا، جو دور دراز سرکاری اسکیموں میں میسر نہیں تھے۔ بعد ازاں ائوب خان کے دور میں لانڈی کورنگی ٹاؤن شپ اسکیم جیسی بڑی مداخلتیں بھی کی گئیں تاکہ مہاجرین کو بسایا جا سکے، لیکن ماضی کی ان تمام غلطیوں اور ناکامیوں سے یہ سبق ملتا ہے کہ پاکستان کے اس سب سے بڑے شہر میں عوام کو بہتر رہائش فراہم کرنے کے لیے جامع، حقیقت پسندانہ اور عوام دوست پالیسیوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ ماضی کے ان توازن سے عاری فیصلوں کو سدھارا جا سکے۔