Politics
داسو اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن بے ضابطگیاں، سینیٹ کمیٹی کا انکوائری کا حکم
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے داسو اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن کے منصوبے میں ایک ارب 28 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا نوٹس لے لیا ہے۔ کمیٹی نے اس تمام معاملے کی شفاف تحقیقات کروا کر ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے داسو سے اسلام آباد تک ٹرانسمیشن لائن کے اہم منصوبے میں ایک ارب 28 کروڑ روپے سے زائد کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔ کمیٹی کا مؤقف ہے کہ اس طرح کی خردبرد ملکی معیشت اور توانائی کے شعبے کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے، جس سے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ حکام کی جانب سے دی گئی ابتدائی بریفنگ کے بعد ارکان نے اس بات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ پراجیکٹ کے دوران مالیاتی قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں۔
کمیٹی کے اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ انرجی سیکٹر کے بڑے منصوبوں میں اس قسم کی بے ضابطگیوں کا سامنے آنا لمحہ فکریہ ہے۔ ارکان نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی غیر جانبدارانہ انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے جو طے شدہ مدت میں اپنی رپورٹ پیش کرے۔ کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ آڈٹ رپورٹس میں نشاندہی کیے گئے تمام مالی سقم کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔
حکام نے سینیٹ کمیٹی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ٹرانسمیشن لائن پراجیکٹ میں سامنے آنے والے آڈٹ اعتراضات پر مکمل کارروائی کی جائے گی۔ وزارت اور متعلقہ اداروں کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائیں گے اور کسی بھی سطح پر غفلت برتنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس معاملے کی باقاعدگی سے نگرانی کرے گی تاکہ قومی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر میکانزم بنایا جا سکے۔