LIVE
Loading Breaking News...

میر رضا قتل کیس: سندھ ہائی کورٹ میں جے آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست

News Image
مقتول میر رضا کے اہلِ خانہ نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی ہے جس میں واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ورثا کا کہنا ہے کہ پولیس بروقت کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے اس لیے انصاف کے حصول کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔
کراچی: مقتول میر رضا کے اہل خانہ نے ان کے قتل کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں ایک اہم درخواست دائر کر دی ہے۔ درخواست گزار کی طرف سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ واقعے کو کافی وقت گزر جانے کے باوجود مرکزی ملزمان تاحال قانون کی گرفت سے باہر ہیں، جس کی وجہ سے لواحقین شدید صدمے اور ناانصافی کا شکار ہیں۔ خاندان کا مطالبہ ہے کہ اس گھناؤنے جرم کی تہہ تک پہنچنے اور تمام شواہد کا احاطہ کرنے کے لیے فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے۔ دائر کردہ پٹیشن میں متعلقہ پولیس حکام اور دیگر فریقین کو نامزد کیا گیا ہے جن پر تفتیش میں مبینہ سستی اور کوتاہی برتنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ورثا کا کہنا ہے کہ پولیس ابتدائی مراحل میں ہی اصل مجرموں کو کٹہرے میں لانے میں ناکام رہی ہے، لہٰذا عدالتی مداخلت کے بغیر انصاف کی فراہمی ممکن نظر نہیں آتی۔ سندھ ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں اس کیس کی سماعت سے امید کی جا رہی ہے کہ قانون کے مطابق شفاف تحقیقات کا راستہ ہموار ہوگا۔ دوسری جانب، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے حلقوں نے بھی اس واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مقتول کے خاندان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور میر رضا کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانا ناگزیر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سندھ ہائی کورٹ اس درخواست پر کیا فیصلہ صادر کرتی ہے اور متعلقہ اداروں کو جے آئی ٹی کے قیام کے حوالے سے کیا ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔