Technology
ٹیکنالوجی کمپنیوں کے پوشیدہ قرضے، اینرون اسکینڈل کا خدشہ
گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ، مائیکروسافٹ، ایمیزون، میٹا اور اوریکل پر ایک اعشاریہ چھ پانچ ٹریلین ڈالر کے پوشیدہ قرض چھپانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ماہرین نے اس مالیاتی حکمت عملی کا موازنہ تاریخی اینرون اسکینڈل سے کرنا شروع کر دیا ہے۔
امریکہ کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں انفراسٹرکچر کی توسیع کے لیے اٹھائے جانے والے مالیاتی اقدامات پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ الفابیٹ، مائیکروسافٹ، ایمیزون، میٹا اور اوریکل جیسی بڑی کاروباری ہستیوں پر مبینہ طور پر اندازاً ایک اعشاریہ چھ پانچ ٹریلین ڈالر کے قرض کو پوشیدہ رکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بری طرح مجروح کر رہی ہے کیونکہ ڈیٹا سینٹرز کے قیام پر ہونے والے بے پناہ اخراجات نے مارکیٹ میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔
ماہرینِ معاشیات اور مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پوشیدہ قرضہ جات کارپوریٹ دنیا کے ایک اور بڑے اسکینڈل یعنی اینرون کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔ ماضی میں جس طرح اینرون نے اپنے مالیاتی کھاتوں میں ہیرا پھیری کر کے قرضوں کو چھپایا تھا، اسی نوعیت کی تشویش اب جدید دور کی ان بڑی ٹیک کمپنیوں کے حوالے سے بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے فروغ کی دوڑ میں یہ کمپنیاں اربوں ڈالر کے سرمائے کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے مختلف مالیاتی معاہدوں اور ذرائع کا سہارا لے رہی ہیں جو روایتی بیلنس شیٹ میں واضح طور پر دکھائی نہیں دیتے۔
اس تمام صورتحال کے بعد وال اسٹریٹ اور دیگر مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کی طرف سے شفافیت کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ سرمایہ کار اس بات پر پریشان ہیں کہ اگر مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی سے متوقع منافع بروقت حاصل نہ ہوا تو یہ چھپے ہوئے قرضے ٹیک انڈسٹری کے لیے ایک بڑا بحران پیدا کر سکتے ہیں۔ دریں اثنا، ان کمپنیوں کے نمائندگان کی طرف سے تاحال کوئی باضابطہ اور مفصل تردید سامنے نہیں آئی ہے، تاہم ریگولیٹری ادارے اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آنے والے دنوں میں اس مالیاتی مباحثے کے مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے کیونکہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے منصوبے وسعت اختیار کر رہے ہیں، ان کے لیے درکار فنڈنگ کے ذرائع پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس نئے دور میں پائیدار ترقی کے لیے کارپوریٹ گورننس اور شفافیت انتہائی ضروری ہے تاکہ کسی بھی بڑے معاشی حادثے سے بچا جا سکے۔