AI
اے آئی نیٹو کمپنیاں بمقابلہ روایتی کاروبار: مستقبل کی مارکیٹ کی جنگ
مصنوعی ذہانت کو محض پرانے طریقوں کو خودکار بنانے کے لیے استعمال کرنا اب ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف اے آئی پر انحصار کرنے والے نئے ادارے روایتی کاروباروں کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔
مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) تیزی سے دنیا بھر کی صنعتوں کو تبدیل کر رہی ہے، تاہم صرف پرانے اور فرسودہ عمل کو خودکار بنانے کے لیے اے آئی کا استعمال اب مسابقتی برتری حاصل کرنے کے لیے ناکافی ہوتا جا رہا ہے۔ معروف ماہرین کے مطابق مستقبل میں وہی ادارے کامیابی حاصل کریں گے جو بنیادی طور پر مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر تشکیل دیے گئے ہیں۔
سروس ناؤ کے گلوبل انوویشن کے سربراہ برائن سولیس اور چیف انوویشن آفیسر ڈیو رائٹ کے درمیان ہونے والی حالیہ گفتگو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اے آئی نیٹو (AI-Native) کمپنیاں روایتی کاروباروں کو شکست دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ روایتی کاروبار اکثر پرانے نظاموں میں مصنوعی ذہانت کو فٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب کہ نئی کمپنیاں شروع دن سے ہی تمام عمل میں مصنوعی ذہانت کو ترجیح دیتی ہیں۔
اس تبدیلی کا مقصد صرف وقت کی بچت یا انسانی محنت کو کم کرنا نہیں ہے، بلکہ کاروباری ماحولیاتی نظام کو نئے سرے سے تشکیل دینا ہے۔ جو کمپنیاں اس فلسفے کو اپناتی ہیں وہ صارفین کی ضروریات کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھتی ہیں اور مارکیٹ کے رجحانات کا بروقت اندازہ لگاتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں جو روایتی کاروبار خود کو اس نئی تکنیکی حقیقت کے مطابق ڈھالنے میں ناکام رہے، وہ مارکیٹ کی دوڑ سے باہر ہو جائیں گے۔ لہذا، کاروباری رہنماؤں کے لیے ضروری ہے کہ وہ محض آٹومیشن سے آگے بڑھ کر اے آئی کو اپنے کاروباری ماڈل کا بنیادی حصہ بنائیں۔