LIVE
Loading Breaking News...

فرینک لوسی کی روبوٹکس میں شاندار ایجاد، سستا سینسر متعارف

News Image
ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ طالبعلم فرینک لوسی نے محض پچیس ڈالر کی لاگت سے ایک جدید روبوٹ سینسر تیار کر لیا ہے۔ یہ نئی ایجاد موجودہ مارکیٹ میں دستیاب سینسرز کے مقابلے میں بیس گنا کم قیمت اور انتہائی کارآمد ہے۔
امریکہ کی ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے اٹھارہ سالہ طالبعلم فرینک لوسی نے روبوٹکس کی دنیا میں ایک شاندار کارنامہ انجام دیتے ہوئے انتہائی کم لاگت میں ہائی پریسیژن روبوٹ سینسر تیار کر لیا ہے۔ اس ایجاد کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کی تیاری پر کل لاگت پچیس امریکی ڈالر سے بھی کم آئی ہے، جو کہ مارکیٹ میں پہلے سے موجود اسی قسم کے دیگر سینسرز کے مقابلے میں تقریباً بیس گنا کم قیمت ہے۔ اس کم لاگت اور اعلیٰ کارکردگی والے سینسر نے سائنسی اور تکنیکی حلقوں میں خصوصی توجہ حاصل کی ہے۔ نوجوان موجد فرینک لوسی نے اس پروجیکٹ پر طویل تحقیق اور محنت کی ہے۔ جدید روبوٹکس اور خودکار سسٹمز میں اعلیٰ درستگی یعنی ہائی پریسیژن رکھنے والے سینسرز کی ضرورت ہمیشہ سے اہم رہی ہے، تاہم یہ آلات عام طور پر بہت زیادہ مہنگے ہوتے ہیں جو چھوٹے پیمانے کے محققین یا طلباء کی پہنچ سے باہر ہوتے ہیں۔ فرینک لوسی کی یہ کامیابی نہ صرف روبوٹکس کے شعبے میں تحقیق کو آسان بنائے گی بلکہ کم وسائل رکھنے والے افراد کے لیے بھی جدید ٹیکنالوجی کے دروازے کھولے گی۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کی ایجادات مستقبل میں صنعتی آٹومیشن اور تعلیمی اداروں میں روبوٹکس کے فروغ کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گی۔ فرینک لوسی کے اس کارنامے نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر عزم بلند ہو تو محدود وسائل میں بھی بڑی تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ ٹیکساس کے اس نوجوان کی اس شاندار کامیابی پر اسے مختلف حلقوں کی طرف سے داد دی جا رہی ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ مستقبل میں مزید ایسی ہی مفید ایجادات سامنے لائے گا۔