Technology
آئی آئی ٹی دہلی کے گریجویٹ کی نئی ایجاد، ٹرک انجن کے بغیر ریفریجریٹر
آئی آئی ٹی دہلی کے گریجویٹ کی قائم کردہ کمپنی نے ٹرک کے انجن سے آزاد اور بیٹری سے چلنے والا ریفریجریشن سسٹم تیار کیا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی سے ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں کولنگ کے اخراجات میں 75 فیصد تک کمی واقع ہوتی ہے۔
نئی دہلی: ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں آئی آئی ٹی دہلی کی ایک سابق طالبہ اور بائیو ٹیکنالوجی گریجویٹ شیوی ملک نے ایک ایسا جدید ریفریجریشن سسٹم تیار کیا ہے جو ٹرک کے انجن پر انحصار کیے بغیر مکمل طور پر بیٹری پر کام کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک پوسٹ کے بعد یوتھ انرجی نامی اس کمپنی کی ایجاد نے صنعت میں ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ یہ ٹیکنالوجی نقل و حمل کے شعبے میں انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ روایتی طور پر ٹرکوں میں سامان ٹھنڈا رکھنے کے لیے انجن سے چلنے والے سسٹمز کا استعمال کیا جاتا ہے جو نہ صرف زیادہ ایندھن کھاتے ہیں بلکہ ماحول کے لیے بھی نقصان دہ ہوتے ہیں۔
اس نئی بیٹری سے چلنے والی ریفریجریشن ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ٹرک کے انجن سے بالکل آزاد ہو کر کام کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب گاڑی کھڑی بھی ہو یا ٹریفک میں پھسی ہو، تب بھی کولنگ کا نظام بلاتعطل جاری رہتا ہے۔ اس ایجاد سے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبے سے وابستہ افراد کو شدید مالی ریلیف ملا ہے، کیونکہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق اس نظام کی وجہ سے کولنگ کے مجموعی اخراجات میں 75 فیصد تک کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ نہ صرف کاروباری حضرات کے لیے سستا سودا ہے بلکہ ایندھن کی بچت کے ذریعے کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اختترعات فوڈ سپلائی چین اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے لیے انتہائی اہم ہیں جہاں ادویات اور خراب ہونے والی خوراک کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے ہوئے درجہ حرارت کو کنٹرول میں رکھنا لازمی ہوتا ہے۔ شیوی ملک اور ان کی ٹیم کی یہ کاوش ثابت کرتی ہے کہ اگر نوجوان ذہنوں کو مواقع ملیں تو وہ روایتی مسائل کے نہایت سستے اور پائیدار حل تلاش کر سکتے ہیں۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس ٹیکنالوجی کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ تجارتی سطح پر ملک بھر کے ٹرانسپورٹرز اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔