LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا گورننس بحران اور بلدیاتی حکومتوں کی اہمیت

News Image
پاکستان میں درپیش گہرے گورننس بحران سے نکلنے کے لیے نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی اور مؤثر بلدیاتی نظام کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک عوام کو مقامی سطح پر فیصلے کرنے کا اختیار نہیں ملتا، سیاسی استحکام خواب ہی رہے گا۔
پاکستان اس وقت ایک شدید اور پیچیدہ گورننس بحران سے دوچار ہے جس نے ملک کے سیاسی، معاشی اور سماجی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر جاری کشمکش اور سیاسی عدم استحکام نے عام آدمی کی زندگی کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس پس منظر میں ملک کے ممتاز اخبارات اور سیاسی تجزیہ کاروں کا متفقہ مؤقف یہ ہے کہ اس زوال کو روکنے اور نظام کو درست سمت میں لانے کی شروعات نچلی سطح سے ہونی چاہئے۔ جب تک جڑیں مضبوط نہیں ہوں گی، اوپر کی عمارت کا پائیدار ہونا ناممکن ہے۔ بلدیاتی حکومتیں کسی بھی جمہوری معاشرے میں جمہوریت کی بنیاد اور نرسری کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کی تاریخ میں مقامی حکومتوں کو ہمیشہ کمزور کیا گیا اور اختیارات کو چند ہاتھوں میں مرکوز رکھنے کی روایت کو برقرار رکھا گیا۔ آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت صوبائی حکومتوں پر لازم ہے کہ وہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کریں، لیکن عملی طور پر اس پر شاذ و نادر ہی روح کے مطابق عمل کیا گیا۔ فنڈز اور انتظامی اختیارات کی عدم فراومی کی وجہ سے کونسلیں اپنے فرائض مؤثر طریقے سے انجام دینے سے قاصر رہتی ہیں، جس کا براہ راست خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اس موجودہ سیاسی اور معاشی تعطل کو توڑنے کے لیے ضروری ہے کہ ریاست ترجیحی بنیادوں پر بلدیاتی نظام کو مالیاتی اور انتظامی خودمختاری فراہم کرے۔ جب عوام کو اپنے گلی محلوں اور شہروں کے مسائل خود حل کرنے کا اختیار ملے گا، تو نہ صرف بیوروکریسی کا دباؤ کم ہوگا بلکہ نئی قیادت بھی ابھر کر سامنے آئے گی۔ ملک کو اس طویل سیاسی بحران سے نکالنے کا واحد اور پائیدار راستہ یہی ہے کہ اقتدار کی حقیقی منتقلی نچلی سطح پر کی جائے، تاکہ گڈ گورننس کے خواب کو حقیقت میں بدلا جا سکے۔