LIVE
Loading Breaking News...

بجلی کے شعبے کی اصلاحات اور ساختیاتی مسائل پر چیئرمین این جی سی کا بیان

News Image
چیئرمین این جی سی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بجلی کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات بنیادی اور ساختیاتی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس صورتحال نے ملک کے توانائی کے بحران اور بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پاکستان کے پاور سیکٹر میں کی جانے والی اصلاحات ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں ہیں کیونکہ ماہرین اور اعلیٰ حکام کا ماننا ہے کہ یہ کوششیں شعبے کے بنیادی اور ساختیاتی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی) کے چیئرمین کی جانب سے حالیہ بیانات نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملک میں توانائی کا بحران عارضی فیصلوں اور سطحی اصلاحات کی وجہ سے جڑ پکڑتا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ملک بھر میں بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور نیٹ بلنگ جیسی اصلاحات نے پاور سیکٹر کے اندرونی تضادات کو مزید واضح کر دیا ہے، جس سے عام صارفین اور صنعتیں دونوں یکساں طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرینِ معاشیات اور توانائی کے امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ماضی میں جتنے بھی پیکجز یا پالیسیاں متعارف کروائی گئیں، ان کا مقصد صرف وقتی طور پر گردشی قرضے کو قابو میں کرنا یا بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو مطمئن کرنا تھا۔ ان پالیسیوں نے کبھی بھی بجلی کی ترسیل کے نظام، لائن لاسز، اور پیداواری لاگت کے اصل محرکات کو تبدیل کرنے کی زحمت گووارہ نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی نئی اصلاحات نافذ کی جاتی ہیں، وہ کچھ عرصے بعد ناکام ہو جاتی ہیں اور ملک کا انرجی سیکٹر ایک نئے بحران کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ دوسری جانب، بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتیں صنعتی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہیں۔ صنعت کاروں کا بارہا کہنا ہے کہ مہنگی بجلی کی وجہ سے ملکی برآمدات عالمی مارکیٹ میں مسابقت کی صلاحیت کھو رہی ہیں، جس سے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ این جی سی چیئرمین کے اس بیان کے بعد اب ماہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو فوری طور پر عارضی مرہم پٹی کی بجائے طویل مدتی اور جامع ساختیاتی اصلاحات کی طرف قدم بڑھانا ہوگا تاکہ ملک کو مستقل توانائی کے بحران سے نکالا جا سکے اور عوام کو سستی اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔