Business
پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور غیر ملکی سرمایہ کاری
پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے عمل میں تیزی آ گئی ہے جہاں سعودی اور ترک کمپنیوں نے گرجانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (جپکو) میں سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ نجکاری کمیشن نے پہلے مرحلے میں شامل ڈسکوز کی تنظیم نو کے پلان کی منظوری بھی دے دی ہے۔
پاکستان کے توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور حکومتی اداروں کی نجکاری کے عمل کے تحت ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں سعودی عرب اور ترکی کی نامور کمپنیوں نے گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (جپکو) کی نجکاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ نجکاری کمیشن کے حکام کے مطابق ملک میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے نظام کو بہتر بنانے اور قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے کے لیے نجکاری کے عمل کو تیز کر دیا گیا ہے، اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اس عمل میں شامل ہونا ایک خوش آئند قدم ہے۔
ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں شامل ڈسکوز کی تنظیم نو کا جامع پلان بھی باضابطہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے جس کے تحت ان اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) اس عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے تین ڈسکوز کی نجکاری کے غرض سے ایک نیا اسپیشل پرپز وہیکل (SPV) بھی قائم کرنے جا رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد کارپوریٹ گورنس کو فروغ دینا اور نجی شعبے کی مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بجلی کی ترسیل کے نظام میں ہونے والے نقصانات کو کم کرنا ہے۔
حکومتِ پاکستان کا یہ عزم ہے کہ سرکاری اداروں کے خسارے کو ختم کیا جائے اور معیشت کو استحکام دینے کے لیے نجی سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے۔ سعودی اور ترک کمپنیوں کی جانب سے اس عمل میں دلچسپی ظاہر کرنے سے بین الاقوامی سطح پر پاکستانی معیشت اور سرمایہ کاری کے ماحول پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ نجکاری کا عمل شفاف طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے تو اس سے نہ صرف بجلی کے صارفین کو بہتر سہولیات ملیں گی بلکہ ملک کے مالیاتی خسارے میں بھی نمایاں کمی واقع ہوگی۔