LIVE
Loading Breaking News...

میٹا کا منافع کم، مصنوعی ذہانت کے اخراجات میں بڑا اضافہ

News Image
میٹا نے مالی سال 2026 کی دوسری سہ ماہی میں آمدنی کے تخمینے تو پورے کر لیے لیکن اخراجات میں پچپن فیصد اضافے کی وجہ سے منافع میں چودہ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد کمپنی کے حصص میں کاروباری اوقات کے بعد آٹھ فیصد سے زیادہ کی نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔
فیس بک اور انسٹاگرام کی ہولڈنگ کمپنی میٹا Platforms Inc. کو اس وقت شدید مالیاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا جب اس کے مصنوعی ذہانت یعنی AI کے بھاری بھرکم بلز نے کمپنی کے مفت کیش فلو کو تقریباً نگل لیا اور مجموعی منافع میں چودہ فیصد تک کی نمایاں کمی واقع ہوئی۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق، اگرچہ میٹا نے مالی سال 2026 کی دوسری سہ ماہی میں آمدنی کے توقعات سے بہتر نتائج پیش کیے تھے، تاہم اخراجات میں پچپن فیصد کا ہوشربا اضافہ سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بن گیا۔ تیس جون کو ختم ہونے والی اس سہ ماہی کے دوران کمپنی کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ دیکھا گیا، جس کی بنیادی وجہ مصنوعی ذہانت کے جدید ترین منصوبوں اور انفراسٹرکچر پر کی جانے والی بھاری سرمایہ کاری ہے۔ اس صورتحال کے فوراََ بعد کمپنی کے شیئرز میں بعد از وقت کاروبار کے دوران آٹھ فیصد سے زیادہ کی بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جس سے مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ میٹا کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں طویل مدتی کامیابی کے لیے یہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، لیکن قلیل مدت میں یہ اخراجات کمپنی کے منافع کے مارجن کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ سمارٹ فون اور سوشل میڈیا کی اس بڑی مارکیٹ میں مسابقت کو برقرار رکھنے کے لیے میٹا کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر یہ خطیر رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے، تاہم سرمایہ کار اس بات پر پریشان ہیں کہ آیا اس بھاری سرمائے کا فوری طور پر کوئی خاطر خواہ تجارتی فائدہ حاصل ہو سکے گا یا نہیں۔ کارپوریٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، آنے والے چند سہ ماہیوں میں میٹا کے مالیاتی نتائج اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ کمپنی کی یہ حکمت عملی کتنی سود مند ثابت ہوتی ہے۔ موجودہ صورتحال نے ٹیک انڈسٹری میں اس بحث کو بھی جنم دیا ہے کہ کیا تمام بڑی کمپنیاں اے آئی کی دوڑ میں اندھا دھند سرمایہ کاری کر کے اپنے مالیاتی استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہیں یا نہیں۔ میٹا کی انتظامیہ کا البتہ یہی مؤقف ہے کہ مستقبل کے ڈیجیٹل منظرنامے میں سبقت لے جانے کے لیے یہ اخراجات ناگزیر ہیں، اور کمپنی اس ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے پلیٹ فارمز کو مزید بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔