Technology
علی بابا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی ترقی کے لیے 10.2 ارب ڈالر خرچ کرے گا
چینی ای کامرس اور ٹیکنالوجی کے بڑے ادارے علی بابا نے مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے ہانگ کانگ میں 10.2 ارب ڈالر کے نئے حصص جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اعلان سہ ماہی منافع میں 75 فیصد کمی کی رپورٹ کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔
چین کے معروف ای کامرس اور ٹیکنالوجی ادارے علی بابا نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی صلاحیتوں کو مزید فروغ دینے کے لیے ایک بڑا اور تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ کمپنی نے ہانگ کانگ میں اپنے 80 ارب ہانگ کانگ ڈالر یعنی تقریباً 10.2 ارب امریکی ڈالر کے نئے حصص فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ علی بابا کے مطابق اس عمل سے حاصل ہونے والی تمام خالص رقم کو مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے اور جدید صلاحیتوں کی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
یہ مالیاتی اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صرف چند روز قبل علی بابا نے اپنی سہ ماہی منافع کی رپورٹ جاری کی تھی، جس میں کمپنی کے خالص منافع میں 75 فیصد بڑی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق منافع میں اس نمایاں کمی کی بنیادی وجہ بھی یہی بھاری بھرکم اخراجات اور اے آئی سیکٹر میں کی جانے والی سرمایہ کاری ہے۔ اس کے باوجود علی بابا کا انتظامی بورڈ اس بات پر مکمل یقین رکھتا ہے کہ طویل المدتی کامیابی اور مستقبل کی مارکیٹ میں برتری کے لیے مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔
عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کمپنیاں اس وقت جنریٹو اے آئی اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبوں میں سبقت حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ سخت مقابلے میں مصروف ہیں۔ علی بابا بھی اپنے کلاؤڈ بزنس کو جدید ترین اے آئی ماڈلز سے لیس کرنے اور سرورز کا انفراسٹرکچر بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ کمپنی کا یہ تازہ ترین اقدام ظاہر کرتا ہے کہ وہ دنیا بھر میں جاری اے آئی کی دوڑ میں پیچھے نہیں رہنا چاہتی اور اس کے لیے وہ بڑے مالیاتی خط مول لینے کو بھی تیار ہے۔