Technology
امریکی دباؤ: اے ایس ایم ایل کی چین کو برآمدات محدود ہونے کا خدشہ
امریکی حکومت کی طرف سے نیدرلینڈز پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اے ایس ایم ایل کو چین کے لیے چپ سازی کے آلات کی برآمدات بند کرنے پر مجبور کرے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین اور ٹیکنالوجی کی جنگ میں چین کی برتری کو روکنا ہے۔
امریکہ اور چین کے درمیان جاری تکنیکی اور تجارتی کشمکش میں ایک بار پھر شدت آنے کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، امریکی حکومت نیدرلینڈز کی معروف سیمی کنڈکٹر ایکوئپمنٹ بنانے والی کمپنی اے ایس ایم ایل (ASML) پر دباؤ بڑھانے پر غور کر رہی ہے تاکہ وہ چین کو اپنے ڈی یو وی (DUV) ٹول اور دیگر اہم چپ سازی کے آلات کی برآمدات مکمل طور پر بند کر دے۔ یہ اقدام واشنگٹن کی اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد بیجنگ کو جدید ترین سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
نیدرلینڈز کی کمپنی اے ایس ایم ایل دنیا بھر میں مائیکرو چپس تیار کرنے والی مشینوں کی تیاری میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اس سے قبل بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اس قسم کی ٹیکنالوجی کی برآمدات کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، تاہم اس تازہ ترین دباؤ کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چین کو چپس کی تیاری میں درپیش مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ ڈچ حکومت پر امریکی حکام کی جانب سے مسلسل سفارتی اور تجارتی دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ قومی سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے ان برآمدات پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ پابندیاں باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوتی ہیں تو اس سے نہ صرف اے ایس ایم ایل کے کاروباری مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کی سپلائی چین بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ چین پہلے ہی امریکی پابندیوں کے متبادل کے طور پر اپنی مقامی چپ انڈسٹری کو فروغ دینے کی کوششوں میں مصروف ہے، لیکن جدید ترین ڈچ ٹیکنالوجی کے بغیر اس کے لیے ہائی اینڈ چپس کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کرنا ایک انتہائی کٹھن مرحلہ ثابت ہوگا۔ آنے والے ہفتوں میں اس معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان اہم سفارتی مذاکرات متوقع ہیں۔