LIVE
Loading Breaking News...

الیاس ہاؤ سلائی مشین پیٹنٹ اور جدید لائسنسنگ کی تاریخ

News Image
برطانوی موجد الیاس ہاؤ نے 1846 میں لاک اسٹیچ سلائی مشین کا پیٹنٹ اپنے نام کیا جس کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات نے کاروباری دنیا کو ایک نیا لائسنسنگ ماڈل دیا۔ اس پیٹنٹ جنگ کے اصول آج بھی فائیو جی جیسی جدید ٹیکنالوجی میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔
تاریخ میں ایسے کئی ایجادات ملتی ہیں جن کے پس منظر میں دلچسپ اور کٹھن کہانیاں چھپی ہوئی ہیں۔ سنہ 1846 میں الیاس ہاؤ (Elias Howe) کی طرف سے لاک اسٹیچ سلائی مشین کا پیٹنٹ حاصل کرنا بھی ایک ایسا ہی اہم سنگ میل ہے جس نے نہ صرف کپڑے سینے کی صنعت کو یکسر بدل کر رکھ دیا بلکہ کاروباری دنیا کو ایک ایسا نیا معاشی ماڈل بھی دیا جو آج بھی مختلف شعبوں میں کارآمد ثابت ہو رہا ہے۔ الیاس ہاؤ کا یہ سفر بالکل بھی آسان نہیں تھا کیونکہ انہیں ابتدائی مراحل میں درزیوں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں مالی معاونت کی تلاش میں بھی شدید مشکلات پیش آئیں۔ مالی اعانت اور سرمایہ کاری کے حصول کے لیے الیاس ہاؤ کو انگلینڈ کا سفر بھی کرنا پڑا لیکن وہاں بھی ان کے حالات سازگار نہیں ہوئے۔ انگلینڈ میں قیام کے دوران انہیں مختلف قانونی اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے ان کی ایجاد کے حقوق پر ایک طویل اور پیچیدہ قانونی جنگ کا آغاز ہوا۔ اس دور کی پیٹنٹ جنگ نے ٹیکنالوجی اور ایجادات کے تجارتی استعمال کے حوالے سے کئی نئے سوالات کھڑے کیے اور موجدین کے حقوق کے تحفظ کے لیے نئے اصول وضع کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ اس قانونی کشمکش نے بالآخر ایک ایسے حل کو جنم دیا جسے 'پولنگ آف پیٹنٹس' یا لائسنسنگ ماڈل کہا جاتا ہے۔ اس ماڈل کے تحت مختلف موجدین نے اپنے حقوق کو یکجا کیا تاکہ صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔ یہ وہی انقلابی کاروباری اور قانونی حکمت عملی ہے جس کی بنیادیں انیسویں صدی میں رکھی گئیں اور آج اکیسویں صدی میں فائیو جی (5G) جیسی جدید ترین ٹیلی کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز میں بھی بالکل اسی ماڈل کو کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے۔ الیاس ہاؤ کی محنت اور اس سے جڑے قانونی تنازعات آج بھی صنعتی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہیں۔