LIVE
Loading Breaking News...

میڈیکیئر اور میڈیکیڈ کا ٹیکنالوجی پروجیکٹ وفاقی ڈیٹا ہب میں منتقل

News Image
سینٹرز فار میڈیکیئر اینڈ میڈیکیڈ سروسز نے ریاستوں کو مطلع کیا ہے کہ وہ 'ایمی' ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس کو پروڈکشن میں منتقل کرنے کے بجائے ایک وفاقی ڈیٹا ہب کا حصہ بنا رہے ہیں۔ یہ فیصلہ نئے اہلیت کے ضوابط نافذ ہونے سے پہلے سامنے آیا ہے جس سے طبی و فلاحی خدمات کے نظام پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
سینٹرز فار میڈیکیئر اینڈ میڈیکیڈ سروسز یعنی سی ایم ایس نے حال ہی میں ریاستوں کو آگاہ کیا ہے کہ وہ 'ایلجیبلٹی میڈ ایزی' یا ایمی (Emmy) نامی ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس کو مزید پروڈکشن میں منتقل نہیں کریں گے۔ اس کے بجائے اس اہم ٹیکنالوجی پروجیکٹ کو ایک وفاقی ڈیٹا ہب میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ وسائل کا بہتر استعمال ممکن بنایا جا سکے۔ یہ انتظامی تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کروڑوں شہریوں کے لیے میڈیکیڈ کی نئی اہلیت کے ضوابط تیزی سے نافذ کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ قدم تکنیکی ڈھانچے کو تبدیل کرنے اور وفاقی سطح پر ڈیٹا کے عمل کو مزید مربوط کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ریاستوں کے حکام کو بھی اس تبدیلی کے حوالے سے ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ وہ اپنے مقامی نظام کو نئے وفاقی ڈیٹا ہب کے ساتھ ہم آہنگ کر سکیں۔ اس منتقلی کا مقصد بنیادی طور پر فنڈز کے ضیاع کو روکنا اور تمام عمل کو زیادہ شفاف اور مستحکم بنانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ریاستیں اب براہ راست اس انٹرفیس کو چلانے کے بجائے وفاقی پلیٹ فارم پر انحصار کریں گی۔ فیڈرل ڈیٹا ہب میں منتقلی سے تکنیکی پیچیدگیوں میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے، تاہم اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ابتدائی مراحل میں مقامی سطح پر کچھ انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ناقدین اور تکنیکی ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا نیا ڈھانچہ بڑھتے ہوئے دوبارہ تصدیق کے عمل کو سنبھالنے میں کامیاب ہو پائے گا یا نہیں۔ سی ایم ایس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم طویل مدت میں تمام فریقین کے لیے مفید ثابت ہوگا اور ڈیٹا کی سکیورٹی کو بھی یقینی بنائے گا۔