Technology
مائیکل کولنز جمنی 10 مشن 1966 خلائی حادثہ
سال 1966 میں جمنی 10 کے تاریخی خلائی مشن کے دوران خلاء نورڈ مائیکل کولنز سے خلائی چہل قدمی کے وقت ایک قیمتی کیمرہ اور مائیکرو میٹرائٹ تجربہ گم ہوگیا تھا۔ یہ واقعہ ابتدائی دور کے خلائی مشنز کو درپیش تکنیکی چیلنجز اور مشکلات کی عکاسی کرتا ہے۔
خلائی تاریخ میں کئی ایسے واقعات درج ہیں جو ابتدائی دور کی مشکلات اور خلابازوں کو درپیش خطرات کی یاد دلاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ سال 1966 میں پیش آیا جب امریکی خلائی ادارے ناسا کے جمنی 10 مشن کے دوران خلاباز مائیکل کولنز کو ایک انوکھے اور مشکل تجربے سے گزرنا پڑا۔ اس مشن کے دوران جب مائیکل کولنز نے اپنے خلائی جہاز سے باہر نکل کر خلا میں چہل قدمی یعنی اسپیس واک کرنے کا فیصلہ کیا، تو اس دوران کچھ ایسے حادثات رونما ہوئے جن کی توقع نہیں کی گئی تھی۔اس چہل قدمی کے دوران مائیکل کولنز سے حادثاتی طور پر ان کا قیمتی کیمرہ اور مائیکرو میٹرائٹ کا ایک اہم سائنسی تجربہ ہاتھ سے پھسل کر خلا کی وسیع و عفید فضا میں تیرتا ہوا مدار میں گم ہوگیا۔ یہ دونوں چیزیں زمین پر واپس لانے کے لیے انتہائی اہم تھیں اور خلا میں سائنسی ڈیٹا اکٹھا کرنے کا ذریعہ تھیں، لیکن ناتجربہ کار ماحول اور ابتدائی ٹیکنالوجی کی وجہ سے ان کا نقصان ناگزیر ہو گیا۔اس واقعے نے اس وقت کے سائنسدانوں اور انجینئرز کے سامنے خلائی تحقیق کے دوران استعمال ہونے والے آلات کی حفاظت اور ان کے ڈیزائن میں بہتری لانے کے حوالے سے کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے تھے۔ اس دور میں خلائی ملبوسات اور آلات اتنے جدید نہیں تھے جتنے آج کے دور میں ہیں، اور خلا نوردوں کے لیے اس طرح کے چھوٹے آلات کو سنبھالنا ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکل کام مانا جاتا تھا۔جمنی 10 کا یہ مشن مجموعی طور پر کئی اہم کامیابیوں کا حامل تھا، تاہم اس طرح کے چھوٹے موٹے نقصانات نے اس بات کو اجاگر کیا کہ کائنات کے نادیدہ اور کٹھن ماحول میں انسان کو کتنے زیادہ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مائیکل کولنز کا خلا میں کیمرہ اور تجربہ کھو دینے کا یہ واقعہ آج بھی خلائی تاریخ کا ایک دلچسپ اور سبق آموز باب سمجھا جاتا ہے جو ابتدائی خلائی سفر کی دشواریوں کی یاد دلاتا ہے۔