Technology
جدید والدین، اے آئی اور بچوں کی تربیت کا انوکھا انداز
مولی اور شان مورس اپنی پانچ سالہ بیٹی کو مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے لیے تیار کر رہے ہیں، جہاں وہ روایتی خاندانی ماحول کے ساتھ ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کر رہے ہیں۔ والدین کا ماننا ہے کہ بچوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے اے آئی ٹولز کا شعوری استعمال ضروری ہے۔
مولی اور شان مورس اس بات پر متفق ہیں کہ وہ اپنی پانچ سالہ بیٹی کو مستقبل کی مصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا کے لیے مکمل طور پر تیار کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ رات کے وقت وہ اپنے گھر میں ٹیکنالوجی کا استعمال بند رکھتے ہیں اور اپنی بیٹی کو کہانیاں سنانے، تخیلاتی دنیا بنانے اور مختلف کرداروں پر بات چیت کرنے میں وقت گزارتے ہیں، تاہم دن کے اوقات میں وہ جدید ڈیجیٹل ٹولز اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے اس کی سیکھنے کی صلاحیتوں کو نکھار رہے ہیں۔
آج کے اس دور میں جہاں ٹیکنالوجی ہر گھر کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے، والدین کے لیے یہ فیصلہ کرنا ایک بڑا چیلنج ہے کہ بچوں کی تربیت میں سکرین اور اے آئی کا کتنا عمل دخل ہونا چاہیے۔ مولی اور شان کا یہ ماننا ہے کہ بچوں کو ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر دور رکھنے کے بجائے انہیں اس کا ذمہ دارانہ استعمال سکھانا زیادہ بہتر حکمت عملی ہے۔ اس طرح بچے مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ بہتر انداز میں تیار ہو سکتے ہیں اور جدید دنیا کے تقاضوں کو سمجھ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت انسانی زندگی کے ہر شعبے پر اثر انداز ہوگی۔ ایسے میں والدین کی جانب سے یہ قدم اٹھانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اب تربیت کا مفہوم بدل رہا ہے۔ روایتی اقدار کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کو اپنانا ہی آج کے بچوں کی کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے، بشرطیکہ اس کا استعمال اعتدال اور حکمت کے ساتھ کیا جائے۔