Technology
سنی ویل چپ کمپنی کو 140 ملین ڈالر کی حکومتی فنڈنگ
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سنی ویل سے تعلق رکھنے والی سیمی کنڈکٹر آلات بنانے والی کمپنی کو وفاقی حکومت سے بڑا فنڈ مل گیا ہے۔ یہ فنڈنگ مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر ڈیٹا کی ترسیل میں توانائی کی کھپت کو نمایاں طور پر کم کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
سنی ویل سے تعلق رکھنے والی ایک معروف چپ آلات تیار کرنے والی کمپنی نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ اسے امریکی 'سیپس ایکٹ' (CHIPS Act) کے تحت ایک سو چالیس ملین ڈالر کی تاریخی مالیاتی وابستگی حاصل ہو گئی ہے۔ اس فنڈنگ کا بنیادی مقصد جدید ترین سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کی ترقی کو تیز کرنا ہے، جو مستقبل کے تکنیکی چیلنجز سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس حوالے سے کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کی تیار کردہ جدید ٹیکنالوجی چپس کے درمیان ڈیٹا کی نقل و حرکت کے دوران ضائع ہونے والی توانائی کو انتہائی کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار ترقی اور ڈیٹا سینٹرز کے پھیلائو کی وجہ سے بجلی کی کھپت ایک بڑا اور سنجیدہ مسئلہ بن چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق، چپس کے اندر اور ان کے مابین ڈیٹا کی ترسیل کے عمل میں بہت زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے، جس سے نہ صرف لاگت بڑھتی ہے بلکہ ماحول پر بھی دباؤ پڑتا ہے۔ کمپنی کی اس نئی تحقیق اور ٹیکنالوجی سے اس مسئلے کا پائیدار حل نکلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ حاصل ہونے والی اس نئی سرمایہ کاری کے ذریعے کمپنی اپنے تحقیقی اور ترقیاتی (R&D) کے منصوبوں کو مزید وسیع کرے گی اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنائے گی۔ صنعتی حلقوں کی جانب سے اس پیش رفت کو سراہا جا رہا ہے کیونکہ یہ اقدام امریکہ میں چپ سازی کی صنعت کو مضبوط کرنے اور ملکی سطح پر ہی جدید ترین ٹیکنالوجی کی تیاری کو یقینی بنانے کی حکومتی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے۔