World
امریکہ جنوبی کوریا فوجی مشقیں منسوخ، ایشیائی دفاع پر اثرات
امریکہ نے ایران کے ساتھ کشیدگی اور دیگر دفاعی مصروفیت کے باعث جنوبی کوریا کے ساتھ ایک اور اہم فوجی مشق منسوخ کر دی ہے۔ اس فیصلے سے خطے کی دفاعی صورتحال اور اسٹریٹجک امور پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
واشنگٹن: امریکہ نے جنوبی کوریا کے ساتھ اپنی ایک اور اہم فوجی مشق منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے ایشیائی دفاعی حلقوں میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔ پینٹاگون کے ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی افواج کو مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دیگر عالمی محاذوں پر سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس صورتحال میں واشنگٹن نے اپنی عسکری ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ مذاکرات اور رابطے کی کوششوں نے بھی خطے کی سیاست میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ جرات مندانہ سیاسی قدم ایشیا میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتا ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی میں کمی یا کسی نئے سفارتی باب کا آغاز ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس اقدام کے جنوبی کوریا اور خطے کے دیگر حلیف ممالک پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس پر ماہرین کی آراء منقسم ہیں۔ ایک طرف جہاں دفاعی اخراجات اور فورسز کی نقل و حرکت میں کمی لائی جا رہی ہے، وہیں دوسری طرف کینیڈا کی جانب سے امریکی محصولات کے جواب میں سخت تجارتی اقدامات کا اعلان بھی عالمی اقتصادی اور سیاسی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ عالمی رہنما اس پوری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جا سکے کیونکہ ایشیائی خطے میں امن و استحکام پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔