LIVE
Loading Breaking News...

ایران اور اسلامی ناٹو، سعودی پاکستان ترکی دفاعی اتحاد کی تازہ ترین صورتحال

News Image
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے نئے دفاعی اتحاد میں مبینہ طور پر ایران کو بھی شامل کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس پیش رفت نے مشرق وسطیٰ اور خطے کی جغرافیائی سیاست میں ایک نیا موڑ لے لیا ہے۔
مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے سیاسی منظرنامے میں ایک انتہائی اہم اور غیر متوقع پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان قائم ہونے والے نئے دفاعی اتحاد میں مبینہ طور پر ایران کو بھی شامل کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس پیش رفت کو بین الاقوامی میڈیا اور دفاعی ماہرین کی جانب سے انتہائی گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ ماضی میں انم تمام ممالک کے تعلقات میں کئی اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نئے فریم ورک کو، جسے بسا اوقات 'مکہ دفاعی معاہدہ' بھی کہا جا رہا ہے، خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے تشکیل دیا جا رہا ہے۔ اس اتحاد میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی جیسے اہم مسلم ممالک کا ایک پلیٹ فارم پر آنا پہلے ہی خطے کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی مانا جا رہا تھا، تاہم اب اس میں ایران کو مدعو کیے جانے کی اطلاعات نے بین الاقوامی مبصرین کو حیران کر دیا ہے۔ دوسری جانب، بنگلہ دیش نے بھی اس پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی معاہدے میں شمولیت کے حوالے سے اپنی دلچسپی اور آمادگی کا عندیہ دیا ہے، جو اس اتحاد کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر سکتا ہے۔ اگر یہ تمام ممالک ایک مشترکہ دفاعی چھتری تلے اکٹھے ہو جاتے ہیں، تو یہ عالمی سطح پر ایک بڑی طاقت کا روپ دھار سکتا ہے اور خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس تمام صورتحال نے بالخصوص عالمی طاقتوں اور واشنگٹن کے حلقوں میں بھی نئی سوچ کو جنم دیا ہے، کیونکہ اس قسم کا اتحاد خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ایران اس دعوت کو قبول کر لیتا ہے، تو یہ مسلم دنیا کے اندرونی تنازعات کو حل کرنے اور سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے کی سمت میں ایک تاریخی قدم ثابت ہو سکتا ہے، تاہم آنے والے دنوں میں اس معاہدے کی حتمی شکل اور شرائط کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔