Politics
ای ون بستی منصوبہ: نیتن یاہو اور اسرائیل کی سیاست پر اثرات
اسرائیل کی جانب سے متنازعہ ای ون بستی کی توسیع کا منصوبہ فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ تاہم، یہ قدم اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے دائیں بازو کے اتحادیوں کو آئندہ انتخابات میں سیاسی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں متنازعہ 'ای ون' (E1) بستی کی تعمیر اور توسیع کا منصوبہ ایک بار پھر عالمی سطح پر سخت تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ بین برادری اور مختلف ممالک اس اقدام کو دو ریاستی حل اور مستقبل میں ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے تباہ کن قرار دے رہے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت مشرقی یروشلم اور معالی ادومیم بستی کو آپس میں جوڑا جانا ہے، جس سے مغربی کنارہ شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم ہو جائے گا۔
اس شدید عالمی مخالفت اور تنقید کے باوجود، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے دائیں بازو کے سیاسی حلیف اس منصوبے سے پیچھے ہٹنے پر تیار نظر نہیں آتے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اور ان کی دائیں بازو کی اتحادی جماعتیں اس قسم کے اقدامات کو اپنے سخت گیر ووٹرز کو خوش کرنے اور سیاسی حمایت حاصل کرنے کے ایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ انتخابات کے قریب اس طرح کے متنازعہ اعلانات ان کی سیاسی پوزیشن کو مضبوط کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
فلسطینی قیادت اور بین الاقوامی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اس بستی کی تعمیر سے امن عمل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اور صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود، اسرائیلی دائیں بازو کی سیاست میں ملکی سلامتی اور مذہبی نعروں کے تحت اس قسم کے منصوبوں کی حمایت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عالمی دباؤ اس منصوبے کی رفتار کو سست کرنے میں کتنا کامیاب ہوتا ہے اور اسرائیلی سیاست اس پر کیا رخ اختیار کرتی ہے۔