World
شام اور اسرائیل کے درمیان اردن میں امریکی ثالثی میں مذاکرات کا انعقاد
شام اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ یا نمائندوں نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اردن میں امریکی ثالثی میں اہم ملاقات کی۔ یہ مذاکرات ترکی کی سرحد کے قریب ہونے والے حالیہ اسرائیلی فضائی حملے کے تناظر میں خطے میں امن بحال کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔
خطے میں جاری کشیدگی اور حالیہ پرتشدد واقعات کے بعد، شام اور اسرائیل کے اعلیٰ حکام کے درمیان اردن کے دارالحکومت میں امریکی ثالثی کے تحت اہم مذاکرات منعقد ہوئے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس ملاقات کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنا اور سرحدی علاقوں میں مزید فوجی انہدام یا محاذ آرائی کو روکنا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ترکی کی سرحد کے قریب مبینہ طور پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد خطے میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی حساس ہو گئی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی ثالث کاروں نے دونوں فریقین کو سفارتی سطح پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے ایک لائحہ عمل تجویز کیا ہے۔ شامی وزیر خارجہ نے اس موقع پر اپنے مؤقف میں سرحدی خودمختاری کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اسرائیلی حکام کی جانب سے بھی سکیورٹی خدات سے متعلق اپنے مطالبات پیش کیے گئے۔ بین الاقوامی برادری اس ملاقات کو خطے میں ایک بڑی جنگ کے خطرات کو ٹالنے کے لیے ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ اگرچہ دونوں روایتی حریفوں کے درمیان بنیادی سیاسی اور علاقائی تنازعات بدستور برقرار ہیں، تاہم امریکی اور اردنی سفارت کاروں کی کوشش ہے کہ کم از کم زمینی سطح پر فوجی تصادم کے امکانات کو سختی سے روکا جائے۔ آنے والے دنوں میں اس قسم کے مزید بالواسطہ یا نیم سفارتی رابطے متوقع ہیں تاکہ مشرق وسطیٰ کے اس حساس خطے میں امن و استحکام کی فضا کو بحال رکھا جا سکے اور کسی بھی ناگوار حادثے سے بچا جا سکے۔