LIVE
Loading Breaking News...

عمران خان کی ڈیل اور صحت سے متعلق پی ٹی آئی کا مؤقف

News Image
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے حکومت کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل کی افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اصولوں پر یقین رکھتے ہیں اور وہ کوئی ڈیل نہیں کریں گے۔
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کی ڈیل کی خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر بانی پی ٹی آئی نے کوئی ڈیل کرنی ہوتی تو وہ گزشتہ تین سالوں سے جیل میں قید نہ ہوتے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ خان صاحب اصولوں کی جنگ لڑ رہے ہیں اور وہ اسپتال میں بھی ضرورت سے ایک منٹ زیادہ قیام نہیں کریں گے جتنا کہ ان کے طبی معائنے اور علاج کے لیے لازمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت جیسے سنجیدہ معاملے پر سیاست نہیں کی جانی چاہیے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ رہنما سردار لطیف کھوسہ بھی موجود تھے جنہوں نے عدالت کے رجسٹرار سے ملاقات کی۔ بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ وہ سپریم کورٹ کے احکامات کی مبینہ خلاف ورزی پر دائر توہین عدالت کی درخواست پر چیف جسٹس آف پاکستان سے ملنے آئے تھے، تاہم مصروفیت کے باعث ملاقات نہ ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹرار نے یقین دہانی کرائی ہے کہ درخواست کو جلد نمبر الاٹ کر کے سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا کیونکہ عدالت کا 18 اگست کا حکم نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب، کیس کے پس منظر میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ بانی پی ٹی آئی کو طبی معائنے کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، جہاں ان کے معائنے کے دوران ان کی ہمیشرہ ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان بھی موجود ہوں۔ تاہم، حکومتی احکامات کے باوجود انہیں مبینہ طور پر شفا اسپتال کی بجائے پمز اسپتال لے جایا گیا اور بعد میں واپس جیل منتقل کر دیا گیا جس پر پی ٹی آئی کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ حکومت کا مؤرخہ مؤقف ہے کہ سیکیورٹی خدشات اور پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے پیدا کردہ صورتحال کی وجہ سے اسپتال کی منتقلی میں تبدیلی کی گئی، جبکہ پمز اسپتال میں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا مکمل معائنہ کیا۔ اب پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ عدلیہ کے احکامات کی مکمل پاسداری کو یقینی بنایا جائے تاکہ بانی پی ٹی آئی کو ان کی پسند کے طبی ماہرین کے ذریعے علاج کی سہولت مل سکے۔