Sports
الیگزینڈر سیفرین کا فیفا صدر سے استعفیٰ کا مطالبہ، عہدہ نہ لینے کا اعلان
یو ای ایف اے کے صدر الیگزینڈر سیفرین نے فیفا کے سربراہ گیانی انفانتینو سے سبکدوش ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ خود فیفا کا عہدہ سنبھالنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔
یورپی فٹ بال ایسوسی ایشن (یو ای ایف اے) کے صدر الیگزینڈر سیفرین نے فیفا کے صدر گیانی انفانتینو کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں۔ بین الاقوامی فٹ بال کے منظر نامے پر یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں تنظیموں کے درمیان مختلف پالیسیوں اور انتظامی امور پر اختلافات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ الیگزینڈر سیفرین کا خیال ہے کہ فیفا کی موجودہ قیادت کو اب تبدیلی کا سامنا کرنا چاہیے تاکہ فٹ بال کے کھیل کو مزید شفاف اور منصفانہ بنیادوں پر چلایا جا سکے، لیکن انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ خود اس خالی ہونے والے منصب کو سنبھالنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔
دوسری جانب، کھیلوں کے مبصرین کا ماننا ہے کہ الیگزینڈر سیفرین اور گیانی انفانتینو کے درمیان یہ کشیدگی عالمی فٹ بال کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ حالیہ برسوں میں کلب ورلڈ کپ کے فارمیٹ، ورلڈ کپ کے شیڈول اور مالیاتی تقسیم جیسے کئی اہم مسائل پر یو ای ایف اے اور فیفا کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان دیکھا گیا ہے۔ سیفرین کی جانب سے اس قسم کا علانیہ بیان دینا اس بات کا غماز ہے کہ یورپی فٹ بال حکام فیفا کی موجودہ انتظامی پالیسیوں سے کس قدر نالاں ہیں اور وہ عالمی فٹ بال کے ڈھانچے میں بڑی اصلاحات کے خواہاں ہیں۔
اگرچہ الیگزینڈر سیفرین نے فیفا کی صدارت حاصل کرنے کے امکانات کو یکسر مسترد کر دیا ہے، تاہم ان کا یہ بیان فٹ بال کی دنیا میں ایک نئی بحث کا آغاز ضرور کر چکا ہے۔ کھیلوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں فیفا کے اندرونی حلقوں اور دیگر علاقائی فیڈریشنز کی جانب سے اس بیان پر سخت ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ فیفا کے ترجمان نے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، لیکن اندرونی ذرائع کے مطابق اس صورتحال نے عالمی فٹ بال کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے اور دونوں تنظیموں کے تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔