Entertainment
ڈزنی ورلڈ رائیڈ کی بندش اور مپیٹ مجسمے کی فروخت کی کہانی
والٹ ڈزنی ورلڈ کے ایک مقبول ترین رائیڈ کی بندش نے مداحوں کو حیران کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں جم ہینسن کے تخلیق کردہ مشہور مپیٹ کردار کا ایک یادگار مجسمہ اب ایک نجی شخص کی ملکیت بن چکا ہے۔ یہ انوکھا واقعہ شائقین کے لیے ماضی کی یادوں کو تازہ کرنے کا ایک بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔
جم ہینسن کے تخلیق کردہ رنگ برنگے اور منفرد مپیٹ کرداروں کو دنیا کے سامنے آئے ہوئے نصف صدی سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس طویل عرصے کے دوران مپیٹس نے نہ صرف ٹیلی ویژن اسکرینز بلکہ فلموں کی دنیا میں بھی اپنی ایک الگ اور انمٹ پہچان بنائی ہے۔ دنیا بھر میں کروڑوں چاہنے والے ان کرداروں کی معصومیت اور مزاحیہ انداز کے دیوانے ہیں، جنہوں نے نسل در نسل لوگوں کے دلوں میں گھر کیا ہے۔ حال ہی میں والٹ ڈزنی ورلڈ کے ایک انتہائی مقبول اور ہر دل عزیز رائیڈ کی بندش کا اعلان کیا گیا جس نے دنیا بھر کے سیاحوں اور مداحوں کو افسردہ کر دیا۔ اس تاریخی رائیڈ کی بندش محض ایک تفریحی مقام کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ جڑی ہوئی لاتعداد یادیں اور نوادرات بھی اب تاریخ کا حصہ بن رہے ہیں۔ اس بندش کے تناظر میں ایک انتہائی دلچسپ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب اس رائیڈ سے وابستہ ایک مشہور مپیٹ مجسمہ بالآخر ایک عام فرد کی ملکیت میں چلا گیا۔ یہ مجسمہ جو کبھی ڈزنی کے پرتعیش اور تفریحی زون کی زینت ہوا کرتا تھا، اب ایک نجی کلیکٹر کے پاس محفوظ ہے۔ اس انوکھی ملکیت کی تبدیلی کے پیچھے چھپی کہانی شائقین کے لیے انتہائی حیرت انگیز ہے کیونکہ رائیڈ کے بند نہ ہونے کی صورت میں یہ مجسمہ کبھی بھی فروخت کے لیے پیش نہ کیا جاتا۔ مپیٹ کلچر کے شائقین کے نزدیک اس مجسمے کی اہمیت کسی قیمتی خزانے سے کم نہیں ہے۔ جم ہینسن کی یہ تخلیقات آج بھی لوگوں کے دلوں میں اتنی ہی زندہ ہیں جتنی دہائیوں پہلے تھیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ڈزنی کے پارکس اور رائیڈز صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ لوگوں کے جذبات اور یادوں کا امین بھی ہیں۔ رائیڈ کی بندش سے جہاں ایک طرف اداسی کا ماحول ہے، وہیں اس نوعیت کے نوادرات کا محفوظ ہاتھوں میں جانا مداحوں کے لیے کسی تسلی سے کم نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں اس مجسمے کی نمائش اور اس کی حتمی منزل کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے، جس پر دنیا بھر کے مپیٹ شائقین کی گہری نظریں لگی ہوئی ہیں۔