LIVE
Loading Breaking News...

صدر زیلنسکی کا برطرف وزیرِ دفاع سے اختلافات پر اہم بیان

News Image
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اپنے برطرف وزیرِ دفاع کے ساتھ تنازع کی تفصیلات سے پردہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے سابق وزیر کے بعض اقدامات اور دفاعی اخراجات کے فیصلوں کو غلط سمت میں اٹھایا گیا قدم قرار دیا ہے۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے حال ہی میں برطرف کیے جانے والے وزیرِ دفاع کے ساتھ اپنے اختلافات کھل کر سامنے رکھ دیے ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیر کے کئی اقدامات نہ صرف غلط فہمیوں کا باعث بنے بلکہ ان کے فیصلوں نے ملک کے دفاعی امور کو بھی متاثر کیا۔ زیلنسکی کے مطابق، مشکل جنگی حالات کے دوران غلط سمت میں اٹھائے جانے والے اقدامات ناقابلِ برداشت ہیں، خاص طور پر جب ملک کو دشمن کے خلاف صفِ اول کی جنگ کا سامنا ہو۔ برطرف وزیر کے دور میں کیے جانے والے دفاعی اخراجات کے بعض فیصلوں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، جن کی وجہ سے حکومت کو اندرونی محاذ پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین کو اپنی فضائی حدود کے دفاع میں شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ ملک میں پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس میزائلز کی پہلے ہی نمایاں کمی پائی جاتی ہے، جو یوکرین کی فضائی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نازک موڑ پر وزارتِ دفاع میں ہونے والی یہ تبدیلیاں اور اختلافات ملکی دفاعی صلاحیتوں کو کمزور کر سکتے ہیں۔ صدر زیلنسکی کی جانب سے ان معاملات پر کھل کر بات کرنے کا مقصد عسکری اور سیاسی نظام میں شفافیت لانا ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے غلط فیصلوں سے بچا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین کی بقا اور دفاع کے لیے تمام اداروں کو یکسو ہو کر کام کرنا ہوگا اور کسی بھی قسم کی غفلت یا غلط سمت میں اٹھائے جانے والے قدم کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ حکومت اب ان مسائل سے نمٹنے اور دفاعی سازوسامان کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے نئی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے۔