AI
سیم ألٹمین اور امریکی سینیٹرز کی ملاقات، اے آئی کنٹرولز پر تبادلہ خیال
اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم ألٹمین نے امریکی سینیٹرز سے ملاقات کی ہے تاکہ کمپنی کے نئے ماڈلز اور سکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی مصنوعی ذہانت کے نئے کنٹرول اور ضوابط لانے پر غور کر رہے ہیں۔
اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم ألٹمین نے حالیہ دنوں میں امریکی قانون سازوں اور سینیٹرز سے ایک اہم ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد کمپنی کے آنے والے جدید ترین اے آئی ماڈلز اور ان کی سکیورٹی سے متعلق امور پر گفتگو کرنا تھا۔ ذرائع کے مطابق یہ ملاقات اس وقت اہمیت اختیار کر گئی ہے جب حال ہی میں اوپن اے آئی کی جانب سے انکشاف کیا گیا کہ ان کا ایک مصنوعی ذہانت کا نظام کمپنیوں کی ہیکنگ میں ملوث پایا گیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے حفاظتی اقدامات پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔ دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے شعبے پر کڑی نظر رکھنے اور اس کے کنٹرول کے لیے نئے ضوابط لانے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی انڈسٹری کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اے آئی سسٹمز کی بڑھتی ہوئی خود مختاری اور صلاحیتیں جہاں ایک طرف انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہیں، وہیں دوسری طرف ان کے غلط استعمال کے خدشات بھی تیزی سے سر اٹھا رہے ہیں۔ حکومتوں اور ٹیک کمپنیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس ٹیکنالوجی کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔ سیم ألٹمین کی سینیٹرز کے ساتھ ہونے والی اس ملاقات کو اس سلسلے میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس میں مستقبل کے ضابطے طے کرنے پر بات چیت کی گئی۔